BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 January, 2004, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سائنسدان: حکومت جواب دے

ڈاکٹر فاروق عبدالقدیر کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے جمعرات کو وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ کہوٹہ لیبارٹری میں کام کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر فاروق کی مبینہ حراست کے بارے میں تئیس جنوری سے پہلے تمام تفصیلات عدالت عالیہ میں پیش کرے۔

گزشتہ تاریخ سماعت کے موقع پر عدالت عالیہ نے حکومت سے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق کی مبینہ حراست کے بارے میں جواب طلب کیا تھا جو حکومت نے آج پیش نہیں کیا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر فاروق کی حراست کی خبر پر دفتر خارجہ کے ترجمان نے موقف اختیار کیا تھا کہ سائنسدانوں کے ساتھ ڈی بریفنگ کے سیشن کیے جارہے ہیں جو ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک میں معمول کی بات ہے۔

ڈاکٹر فاروق کی بازیابی کے لیے ان کی بیوی خوش نیاز بیگم نے ایک رٹ درخواست دائر کی ہوئی ہے جس کی سماعت جسٹس انوارالحق کر رہے ہیں۔

رٹ میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

رٹ میں عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ حکومت کو ڈاکٹر فاروق کو اسلام آباد سے باہر یا کسی دوسرے ملک کے ادارے کے حوالے کرنے سے روکے اور ان کو غیرقانونی طور پر حراست میں لینے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

وفاقی حکومت کے وکیل قاضی نعیم نے عدالت عالیہ سے کہا کہ وفاقی حکومت قاضی فاروق کے کیس کے بارے میں لاعلم ہے۔

درخواست گزار کے وکیل محمد اکرام چودھری نے عدالت عالیہ سے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ حکومت ایک اور سائنسدان محمود کی طرح ڈاکٹر فاروق کو بھی امریکی ادارے ایف بی آئی کے سپرد کردے گی۔

سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ سے کہا کہ انھیں حکومت کا جواب حاصل کرنے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی جائے۔

درخواست گزار کے وکیل نے اس مہلت کی مخالفت میں کہا کہ عدالت عالیہ پہلے ہی تمام فریقوں کو نوٹس جاری کرچکی ہے اس لیے اتنی مہلت نہ دی جائے۔

تاہم جج نے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اس رٹ میں مختلف فریق بنائے گئے ہیں جن سے جواب لینے کے لیے وقت تو درکار ہے۔

عدالت عالیہ نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ انھوں نے ڈاکٹر فاروق کے حراست میں لیے جانے کے چھ ہفتے بعد رٹ دائر کی تو اب انہیں کیا جلدی ہے۔

اس پر وکیل نے عدالت عالیہ سے کہا کہ جب ڈاکٹر فاروق کو حراست میں لیا گیا تو ان کے اہل خانہ سے ان کی ملاقات کے وقت انھیں بتایا گیا کہ انھیں جلد آزاد کردیا جائے گا لیکن بعد میں ’آج کل‘ کرکے ٹالنا شروع کردیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر فاروق کو اس وقت آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر میں رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد