| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی سائنسداں: رہائی کی درخواست
پاکستان کے جوہری پروگرام ، کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری (کے آر ایل) کے ایک سائنسدان ڈاکٹرمحمد فاروق کی اہلیہ نے بدھ کو عدالت سے رجوع کیا ہے اور استدعا کی ہے کہ ان کے شوہر کو ملک کی سب سے بڑے خفیہ ادارے آئی آیس آئی کی تحویل سے آزاد کرایا جائے۔ ڈاکٹر فاروق اور کے آر ایل کے ایک اور سائنسدان ڈاکٹر یاسین چوہان کو کچھ عرصہ قبل مبینہ طور پر ایران کو جوہری معلومات فراہم کرنے کہ شبہے میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں دائر کی جانے والی حبس بے جا کی درخواست میں ڈاکٹر فاروق کی اہلیہ، خوش نیاز، نے کہا کہ تیئس نومبر کو ان کے شوہر کو راولپنڈی میں ان کے گھر سے بغیر کسی وارنٹ کے لے جایا گیا۔ درخوانت گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے شوہر کو آئی آیس آئی کی غیر قانونی حراست سے آزاد کرایا جائے اور حکومت کی حکم دیا جائے کہ وہ ڈاکٹر فاروق کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہ کرے۔ درخوانت گزار نے آئی آیس آئی کے سربراہ اور وفاقی سیکریٹری داخلہ کو اپنی درخواست میں فریق بنایا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے ۔ پاکستان نے سائنسدانوں گرفتاری کی تردید نہیں کی تھی اور کہا تھا کہ کچھ سائنسدانوں سے کچھ حساس امور کی تصدیق کے لیے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہاتھا کہ نیوکلئیر ریاستوں میں یہ عام بات ہے اور ان اداروں میں کام کرنے والوں کو سخت ڈی بریفنگ سیشنز سے گزرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق کو ڈاکٹر عبدل قدیر خان کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا تھا اور جب تک وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے انچارج رہے ڈاکٹر فاروق خریداری (procurement) کے شعبے کے انچارج رہے تھے۔ ڈاکٹر فاروق کی اہلیہ نے اپنی درخوانت میں الزام لگایا ہے کہ ان کے شوہر کو آئی ایس آئی نے پچھلے ڈیڑہ ماہ سے امریکی تحقیقاتی ادارے ،ایف بی آئی ،کے ایما پر حراست میں رکھا ہوا ہے، ان نے کہنا ہے کہ خاندان کے لوگوں کو ڈاکٹر فاروق سے آیي ايس آئی کے مرکز میں ملاقات کرائی گئی تھی اور ان کو کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے اگر اس کا ذکر کسی سے کیا تو پھر اس کا اچھا ردعمل نہیں ہو گا۔
چوہدری اکرام ایڈوکیٹ نے، جو ڈاکٹر فاروق کی اہلیہ کے وکیل ہیں، بتایا کہ انہوں نے درخواست داخل کر دی ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ ایک دو دن میں سماعت کے لیے عدالت کے سامنے پیش کی جائے گی۔ درخواست گذار نے عدالت کو بتایا کہ ان کے شوہر گریڈ اکیس کے افسر ہیں اور دیانتداری سے ملک کی خدمت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ کے آر آیل کے موجودہ چیرمین ، جاوید اشرف مرزا کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے لیکن ان کا کوئی مثبت رد عمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کے ایک اور نیوکلئیر سائنسدان بشیرالدین محمود کو اڑھائی سال پہلے امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملہ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر اسامہ بن لادن اور القاعدہ تنظیم سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||