| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد: حزب اختلاف کا مارچ
منگل کے روز قومی اسمبلی کے ارکان حزب اختلاف نے ایوان اور ایوان کے باہر جاوید ہاشمی اور آصف زرداری کو حراست میں رکھنے کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا اور دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی رہائی کا مطالبہ کرنے والوں میں ان جماعتوں کے نمائندے اور حامی بھی شامل تھے جو ماضی میں ان کی جماعت اور آصف زرداری کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مظاہرے میں شدت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ آصف زرداری کو قید میں سات سال پورے ہوگئے ہیں۔ ان پر قتل، اقدام قتل، منشیات اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت درجن بھر مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان میں سے سوائے ایک مقدمہ کے باقی تمام میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے۔ ارکان اسمبلی نے کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ’نو مشرف نو، اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے درج تھے۔ اس کے علاوہ آصف زرداری اور جاوید ہاشمی کی رہائی کے حق میں بھی نعرے درج تھے۔ جبکہ مظاہرین بھی یہ نعرے لگا رہے تھے۔ ارکان اسمبلی جب باہر آئے تو وہاں بڑی تعداد میں مظاہرین موجود تھے جو بعد میں جلوس کی شکل میں سپریم کورٹ کی عمارت تک گئے جہاں بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے۔ بعد میں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||