فاٹا اصلاحات: فاٹا کونسل اور قبائلی علاقوں کے انضمام کے مطالبے

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
فاٹا اصلاحات کے لیے تجاویز کے بعد فاٹا گرینڈ الائنس نے فاٹا کونسل کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جو قبائلی علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی جبکہ دوسری جانب فاٹا سیاسی اتحاد نے خیبر پختونخوا کے ساتھ قبائلی علاقوں کو فوری طور پر ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل کو فاٹا گرینڈ الائنس کے سربراہ ملک خان مرجان نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کے لیے ان کے ’رواج قانون سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور قبائلی علاقوں کا فیصلہ اس علاقے کے رواج کے مطابق ہونا چاہیے۔‘
* <link type="page"><caption> فاٹا اصلاحات:’ بحث پارلیمنٹ کرے گی، فیصلہ جرگہ کرے گا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160825_fo_fata_reforms_hk" platform="highweb"/></link>
ملک خان مرجان نے کہا کہ ’فاٹا اصلاحات کمیٹی ان لوگوں پر مشتمل ہے جس میں قبائلی علاقوں کے لوگ شامل ہی نہیں ہیں‘ اس کے باوجود انھوں نے کمیٹی کو تسلیم کیا اور کمیٹی نے ان سے وعدہ کیا تھا کے قبائلیوں کی رائے کا احترام کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’قبائلی علاقوں کی ایک منتخب فاٹا کونسل قائم کی جائے جو قبائلی علاقوں کے بارے میں قانون سازی کرے اور پھر یہ کونسل فیصلہ کرے کے فاٹا کی الگ حیثیت ہو یا اسے خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کر دیا جائے۔‘
ان سے جب پوچھا کہ قبائلی علاقے کے رہنماوں کے متضاد مطالبات سامنے آ رہے ہیں آپ کچھ بول رہے ہیں اور فاٹا سیاسی اتحاد کے قائدین کچھ اور مطالبہ کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا حل بھی ان کے پاس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ’وزیر اعظم ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں ریفرنڈم کا اعلان کر دیں وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘
ادھر فاٹا سیاسی اتحاد نے اصلاحات کمیٹی کے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے۔ فاٹا سیاسی اتحاد کا اجلاس گذشتہ روز منعقد ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام میں تاخیر کے خلاف وہ آٹھ ستمبر کو احتجاج کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فاٹا سیاسی اتحاد کے صدر نثار مہمند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحاد کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ فاٹا اصلاحات کمیٹی کے فیصلوں کو فوری طور پر نافذ کیا جائے اور اس میں مزید تاخیر وہ برداشت نہیں کریں گے۔
نثار مہمند نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ریفرنڈم تو ہو چکا ہے اصلاحات کمیٹی نے تمام قبائلی ایجنسوں کے نمائندہ افراد کو بلایا تھا اور ان سے ان کی رائے لی گئی تھی جس میں وفاقی وزیر سیفران جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر کے مطابق 71 فیصد نے خیبر پختونخوا کے ساتھ فاٹا کے انضمام کی حمایت کی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا کی روایات کلچر اور طرز زندگی ایک ہی ہے اس لیے یہ تجویز مناسب ہے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ فاٹا اصلاحات کے تمام ایجنسیوں کے نمائندہ افراد سے بات چیت کی گئی اور ان میں سے بیشتر کے فیصلے کو اصلاحات کمیٹی نے ترجیح دی ہے۔







