’عمران خان کو غلط تصویر دکھائی جا رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف کے ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ان کی جماعت کی حکومت ہے لیکن جو جماعت کا منشور تھا اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور عمران خان کو غلط تصویر دکھائی جا رہی ہے۔
جمعے کو حیات آباد میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کے علاوہ جماعت کے دیگر رہنما بھی موجود تھے لیکن اس اجلاس میں وہ کوئی حتمی فیصلے نہیں کر پائے۔
* <link type="page"><caption> پی ٹی آئی کے پانچ ایم این اے کا پرویز خٹک کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160606_pti_mnas_revolt_fz" platform="highweb"/></link>
اس اجلاس کے بعد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اراکین نے کہا کہ انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ 28 تاریخ کو ورکرز کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں جماعت کے منشور کے حوالے سے قیادت کو مجبور کریں گے کہ اس پر عمل درآمد کیا جائے۔
ناراض اراکین کے ایک رکن صوبائی اسمبلی یٰسین خلیل نے بتایا کہ ان کے اجلاس کے دوران پارٹی کے چیئرمین عمران خان کا فون آیا جس میں انھوں نے سنیچر کے روز اسلام آباد طلب کیا ہے جہاں وہ ان ناراض اراکین کے گلے شکوے سنیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا کہ اگر جماعت کے سربراہ عمران خان نے انھیں مطمئن کر دیا اور ان کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے تو وہ اپنا احتجاج موخر کر دیں گے بصورت دیگر اپنے آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اخباری کانفرنس میں صحافیوں نے ان ناراض اراکین سے متعدد سوالات کیے جن میں ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اس طرح کے احتجاج کا اعلان وہ پہلے بھی کئی مرتبہ کر چکے ہیں اور پھر وہ کوئی احتجاج نہیں کرتے اور خاموش ہو جاتے ہیں اس پر ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سے پہلے 13 نکاتی مطالبات کی فہرست دی تھی جسے عمران خان نے تسلیم کر لیا تھا اب اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔
آج اجلاس میں ورکرز کنونشن کے انعقاد کے علاوہ جماعت کے منشور پر عمل درآمد کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے تھے۔ اس اجلاس میں پانچ اراکین قومی اسمبلی ، سات اراکین صوبائی اسمبلی کے علاوہ جماعت کے بانی اراکین اور انصاف لائیرز فورم کے نمائندگان نے شرکت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رکن صوبائی اسمبلی یٰسین خلیل نے بتایا کہ ان کی ناراضی صوبائی حکومت سے اس لیے ہے کہ جماعت کے منشور پر عمل درآمد نہیں ہورہا ، نہ ہی احتساب ہوا ، اور نہ ہی صحت اور تعلیم کے حوالے سے جو وعدے کیے گئے تھے ان پر عمل درآمد ہوا ہے۔
ناراض اراکین کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک پر یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ ترقیاتی کام صرف پشاور ، نوشہرہ اور صوابی تک محدود ہیں باقی علاقوں میں کوئی کام نہیں ہو رہے جبکہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں ذاتی پسند نا پسند کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔







