’اشتہاری پرویز مشرف کا دفاع کس حیثیت سے‘

پرویز مشرف

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپرویز مشرف کے وکلا نے کہا کہ اگر عدالت چاہتی ہے کہ وہ عدالت میں نہ آئیں تو انھیں لکھ کر دیا جائے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ملزم کے وکلا سے پوچھا ہے کہ وہ کس حیثیت سے ایک ایسے شخص کا دفاع کر رہے ہیں جسے عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہے۔

جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے پیر کے روز ملزم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ملزم عدالت میں پیش نہیں ہو رہے جس کے بعد اب ان کو اشتہاری قرار دینےاور اُن کی جائیداد کی ضبطگی سے متعلق کارروائی شروع کی جا چکی ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ملزم کے وکلا احمد رضا قصوری اور فیصل چوہدری سے استفسار کیا کہ کیا اُن کی اپنے موکل سے بات ہوئی ہے اور کیا آپ نے اُنھیں عدالت میں پیش ہونے کے بارے میں کہا ہے جس پر احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ وہ اس عدالت کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں اور اس بارے میں عدالت کی معاونت کریں گے۔

ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر عدالت اُنھیں نہیں سننانا چاہتی تو پھر وہ تحریری طور پر لکھ کر دے تو ہم عدالت سے باہر چلے جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی ملزم کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق عدالتی کارروائی شروع ہوجائے تو کیا اُن کے وکیل کے عدالت میں پیش ہونے پر قدغن لگائی جائے گی۔

عدالت نے پرویز مشرف کے وکلا کو حکم دیا کہ وہ پہلے عدالت کو مطمئن کریں کہ وہ ایک ایسے شخص کی کیوں وکالت کر رہے ہیں جو عدالت میں پیش ہی نہیں ہو رہا۔

خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر کی جائیداد سے متعلق تفصیلات جمع نہ کروانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 19 جولائی تک ملتوی کر دی۔