’پاکستان نے کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی‘

 سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ گیٹ کی تعمیر کا آغاز نومبر 2014 میں ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ گیٹ کی تعمیر کا آغاز نومبر 2014 میں ہوا تھا

پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے اور پاکستان نے کسی باہمی معاہدے یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔

اسلام آباد میں جمعرات کو قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کو گیٹ کی تعمیر کے متعلق پیشگی آگاہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بارڈر مینجمنٹ سسٹم دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے کیونکہ سرحدی نظام میں بہتری سے سمگلنگ اور دہشت گردی کو روکنے میں مدد ملے گی۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ گیٹ کی تعمیر کا آغاز نومبر 2014 میں ہوا تھا۔ لیکن جب افغان حکام نے اس بارے میں خدشات کا اظہار کیا تو پاکستان نے افغان حکام کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہوئے انھیں اعتماد میں لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے متعلقہ افغان حکام کو مطلع کیا گیا تھا کہ یہ تعمیرات پاکستانی حدود کی اندر کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان باہمی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ جبکہ دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ دو برسوں کے دوران دونوں ممالک اس بات پر مفتق ہوئے کہ پاکستان طورخم پر گیٹ کی تعمیر جاری رکھے گا۔

 گذشتہ اتوار کی رات پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی گیٹ کی تعمیر پر جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن گذشتہ اتوار کی رات پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی گیٹ کی تعمیر پر جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کسی جارحیت یا اشتعال انگیزی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ پاکستان کو اس کی طرف کی جانے والی فائرنگ کا جواب دینے پر مجبور کیا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کی رات پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی گیٹ کی تعمیر پر جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا جس میں اب تک ایک پاکستانی فوجی افسر اور ایک افغان فوجی ہلاک جبکہ متعدد سکیورٹی اہلکار اور شہری زخمی ہو چکے ہیں اور سرحد کی بندش کی وجہ سے تجارت سمیت ہر قسم کی نقل و حمل معطل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں ایک فوجی افسر کی ہلاکت اور کئی اہلکار اور عام شہری زخمی ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ طورخم کے علاقے سے 180 خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

سرحد کی بندش کی وجہ سے تجارت سمیت ہر قسم کی نقل و حمل معطل ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسرحد کی بندش کی وجہ سے تجارت سمیت ہر قسم کی نقل و حمل معطل ہے

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ حکومت طورخم پر گیٹ کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے کیونکہ اس سے بارڈر کنٹرول میں بہتری آئے گی اور سرحد پر نقل حرکت کو ریگولیٹ کیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو بتایا تھا کہ یکم جون کو سرحد پر دستاویزات چیک کی جائیں گی۔

سرتاج عزیز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے اور افغان حکام کو باہمی روابط کی بحالی کے لیے اسلام آباد دورے کی دعوت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز انھوں نے افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر سے بات چیت کی اور انھیں اور وزیرخارجہ صلاح الدین ربانی کو حالیہ معاملات اور اعتماد کی بحالی کے لیے اسلام آباد دورے کی دعوت دی ہے۔