طورخم سرحد پر فائر بندی کا امکان

فائرنگ شروع ہونے کے بعد دونوں طرف فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفائرنگ شروع ہونے کے بعد دونوں طرف فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا تھا

طورخم سرحد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا باعث بننے والی عمارت کے بارے میں پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ سرحد سے 37 میٹر اندر تعمیر کی جا رہی ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا جبکہ اسلام آباد میں افغان سفیر حضرت عمر زخیوال نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ تنازع جلد حل کر لیا جائے گا۔

حضرت عمر زخیوال نے اپنے فیس بک پیج پر بدھ کو ایک پیغام میں کہا کہ طورخم سرحد پر جلد فائر بندی ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ طورخم کے حوالے سے ان کی پاکستانی حکام سے ہونے والی ملاقاتیں بہت موثر رہیں ہیں۔ ’ہم نے کئی اقدامات پر اتفاق کر لیا ہے جن میں فائر بندی، کشیدگی کو کم کرنے، دونوں طرف فوجیوں کی تعیناتی کو کم کرنے اور موجودہ مسائل کو حل کرنا شامل ہے۔‘

دوسری طرف پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پاکستان سرحد سے 37 میٹر اندر ایک عمارت تعمیر کی جا رہی ہے جس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2004 میں اس جگہ پر ایک گیٹ موجود تھا جسے جلال آباد تک سڑک کی تعمیر کی وجہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹینس فورس (ایساف) سرحد کے انتظام سے پوری طرح آگاہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرحد پر نظم قائم کرنا سب کے مفاد میں ہے اور وہ اس کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بارڈر کے انتظام کے بارے میں انھوں نے کہا کہ حکومت اور فوج مل کر فیصلے کر رہے ہیں۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ بارڈر کے انتظام کے بارے میں ’سینڈرڈ اوپریٹنگ پروسیجر‘ یا یکساں طریقہ کار تیار کر لیا گیا ہے اور افغانستان کے ساتھ اس پر جلد دستخط کر لیے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ افغانستان کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا گیا ہے اور اس کا فوجی جواب بھی دیاگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بارڈر پر انتظام پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے اور حظے میں امن قائم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے شدت پسند اسی راستے میں پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور ان کے پاس اس بارے میں بہت سے ثبوت موجود ہیں۔

باڑا بیر کے فضائی اڈے پر حملے میں ملوث 14 شدت پسند افغانستان سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوئے اور واردات سے پہلے اسی علاقے میں کئی دن تک چھپے رہے۔

افغانستان سے طورخم کے علاقے میں ہونے والی فائرنگ پر انھوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے اس کا مناسب جواب دیا ہے۔ اب تک ہونے والی جانی نقصان کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پاکستان فوج کے ایک میجر علی جواد ہلاک ہوئے جبکہ انیس جوان زخمی ہوئے۔