’دشمن خفیہ اداروں کو ملک میں گڑبڑ نہیں کرنے دیں گے‘

،تصویر کا ذریعہISPR
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت نے کہا ہے کہ ملک دشمن خفیہ اداروں اور ان کے سہولت کاروں کو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس بات کا اعادہ جی ایچ کیو میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور خارجہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک میں امن و امان کی صورت حال کے علاوہ علاقائی سکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اس کے علاوہ اجلاس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں علاقے میں ہونے والی پیشرفت اور پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے خلاف کی جانے والی سازشوں پر غور کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں شدت پسندوں کے خلاف جاری ضرب عضب پر غور کیا گیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ اس آپریشن سے ملنے والی کامیابیوں سے ملک میں استحکام آ رہا ہے۔
اجلاس میں آپریشن ضرب عضب کے بعد متاثرہ علاقے میں لوگوں کی واپسی اور وہاں پر حکومت کی عملداری قائم کرنے کے لیے بھی مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں 21 مئی کو بلوچستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
اس ڈرون حملے میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور ہلاک ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچنے کے علاوہ افغان امن عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
امریکی ڈرون حملے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم کی برطانیہ سے وطن واپسی کے بعد قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا تاہم میاں نواز شریف کی وطن واپسی میں تاخیر کی وجہ سے فوج کے جنرل ہیڈ کوراٹر میں یہ اجلاس طلب کیا گیا۔
اس اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان شریک نہیں تھے۔







