’رشتے کے تنازعے‘ پر لڑکی کو جلانے والے پانچوں ملزمان گرفتار

،تصویر کا ذریعہ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے مری میں پولیس نے خاتون کو زندہ جلانے کے مقدمے میں ملوث تمام پانچ ملزمان کوگرفتار کر لیا ہے۔
ماریہ نامی خاتون کی ہلاکت کا واقعہ گذشتہ منگل کو پیش آیا تھا جب مبینہ طور پر رشتے کے تنازعے کی وجہ سے پانچ ملزمان نے ان پر تشدد کے بعد انھیں آگ لگا کر انھیں کھائی میں پھینک دیا تھا۔
ماریہ کو زخمی حالت میں اسلام آباد کے پمز ہسپتال لایا گیا تھا جہاں وہ بدھ کو انتقال کر گئی تھیں۔
پولیس نے اس سلسلے میں مقامی سکول کے مالک ماسٹر شوکت سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا تاہم یہ تمام ملزمان مفرور تھے۔
نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق پولیس نے جمعے کو تمام ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے ان افراد کے خلاف درج مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
اس سے قبل پولیس نے ماسٹر شوکت کے بھائی کو بھی حراست میں لیا تھا تاہم مقدمے میں شامل ملزمان میں ان کا نام شامل نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماریہ کی تدفین کے موقع پر ان کے والد نے بی بی سی اردو کی ارم عباسی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ اس بیان پر کارروائی کرے جو ماریہ نے مرنے سے قبل دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شوکت نامی شخص نے اپنے اس بیٹے کے لیے ماریہ کا ہاتھ مانگا تھا جو پہلے ہی سے شادی شدہ اور ایک بیٹی کا باپ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ رشتہ قبول نہیں کیا اور یہی اصل معاملہ ہے۔‘







