ایبٹ آباد: ’طالبہ کو جرگے کے حکم پر قتل کیا گیا تھا‘

پولیس کے مطابق جرگے میں صائمہ نامی لڑکی کو فرار میں مدد دینے والے مفرور شخص صدیق کی گاڑی کو جلانے اور عنبرین کو ہلاک کرنے کا فیصلہ دیاگیا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق جرگے میں صائمہ نامی لڑکی کو فرار میں مدد دینے والے مفرور شخص صدیق کی گاڑی کو جلانے اور عنبرین کو ہلاک کرنے کا فیصلہ دیاگیا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں مقامی عدالت نے ایک ہفتہ قبل جرگے کے حکم پر طالبہ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار 14 ملزمان کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مکول نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والی مذکورہ لڑکی پر اپنی سہیلی کے مبینہ فرار میں مدد دینے کا الزام تھا اور اسے مقامی جرگے کے حکم پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

جن ملزمان کو 14 دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے ان میں مقامی گاؤں کا ناظم بھی شامل ہے۔

ایبٹ آباد کے ضلعی پولیس افسر خرم رشید نے جمعرات کو ایک میڈیا کانفرنس میں بتایا کہ اس واقعے میں ملوث 16 میں سے 14 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دو کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملزمان میں لڑکی کی والدہ شمیم بی بی اور علاقے کا ناظم پرویز بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انھیں ’سی ٹی ڈی‘ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ضلعی پولیس افسر نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ عنبرین گاؤں سے کچھ عرصہ قبل فرار ہونے والی صائمہ نامی لڑکی کی سہیلی اور رازدار تھی۔

ان کے مطابق صائمہ کے فرار کے بعد علاقہ کے ویلج کونسل ناظم پرویز نے جرگہ منعقد کیا جس میں فرار میں مدد دینے والے ایک مفرور شخص صدیق کی گاڑی کو جلانے اور عنبرین کو ہلاک کرنے کا فیصلہ دیاگیا۔

’ناظم پرویز نے 15 افراد پر مشتمل جرگہ منعقد کر کے قتل کا فیصلہ سنایا جس کے بعد لڑکی کو پہلے دوپٹہ گلے میں ڈال کر پھندا لگایا گیا اور بعدازاں لاش کو گاڑی میں سیٹ کے ساتھ باندھ کر گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔‘

تھانہ ڈونگا گلی کے انچارج نصیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کے ثبوت مٹانے کے لیے جلائی جانے والی گاڑی کے ساتھ کھڑی دیگر دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

صحافی شبیر امام کے مطابق مکول کی مقامی پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ عنبرین کی والدہ کی گرفتاری اس وجہ سے عمل میں آئی کہ وہ جرگے کی جانب سے اپنی بیٹی کے خلاف کارروائی کے بارے میں علم رکھتی تھی تاہم اس نے اسے رکوانے کے لیے پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔

خیال رہے کہ ہلاک کی جانے والی لڑکی کے والد روزگار کی غرض سے کراچی میں مقیم ہیں۔

صوبائی حکومت کے حکم پر اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو فوری طورپر گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے انھیں حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا تھا۔