’رشتے کے تنازعے‘ پر جلائی جانے والی لڑکی چل بسی
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے پہاڑی مقام مری میں رشتے کے تنازعے پر زندہ جلائی جانے والی خاتون اسلام آباد میں انتقال کر گئی ہیں۔
ماریہ نامی اس خاتون کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں شادی کرنے سے انکار پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد آگ لگا دی گئی تھی۔
مقامی پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پانچ افراد نے منگل کو ماریہ کے گھر میں داخل ہو کر ان پر تشدد کیا، ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی اور پھر انھیں کھائی میں پھینک دیا۔

بعدازاں ماریہ کو اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال کے برن سینٹر منتقل کیا گیا اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب ماریہ کو وہاں لایا گیا تو ان کا جسم 85 فیصد تک جھلس چکا تھا۔
بدھ کو انتقال کے بعد ماریہ کی میت کو واپس مری لے جایا گیا ہے جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی تدفین کی جائے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا مقدمہ درج کر کے پانچوں ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے جو کہ مفرور ہیں۔

پولیس نے معاملے کے مرکزی ملزم ماسٹر شوکت کے بھائی کو بھی حراست میں لیا ہے تاہم مقدمے میں شامل ملزمان میں ان کا نام شامل نہیں۔
ماریہ کے والد نے بی بی سی اردو کی ارم عباسی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ اس بیان پر کارروائی کرے جو ماریہ نے مرنے سے قبل دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ شوکت نامی شخص نے اپنے اس بیٹے کے لیے ماریہ کا ہاتھ مانگا تھا جو پہلے ہی سے شادی شدہ اور ایک بیٹی کا باپ تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے یہ رشتہ قبول نہیں کیا اور یہی اصل معاملہ ہے۔‘
ماریہ کے والد کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب ماریہ پر تشدد ہوا اور اسے آگ لگائی گئی تو شوکت کا بیٹا وہاں موجود نہیں تھا اور شادی کے معاملے پر اس کے اپنے والد سے اختلافات بھی تھے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ماریہ کی خالہ آسیہ نے کہا کہ ان کی بھانجی بہت ذہین تھیں اور ماسٹر شوکت کے سکول میں استانی تھیں۔
ان کے مطابق ’وہ (ملزمان) چاہتے تھے کہ ماریہ سکول کے مالک کے بیٹے سے شادی کرے اور سکول چلائے۔ اس کے والد کے انکار پر انھوں نے یہ قدم اٹھا کر بدلہ لیا ہے۔‘







