حج کرپشن سکینڈل میں سابق وفاقی وزیر کو 12 سال قید

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد میں عدالت نے پاکستانی حاجیوں کے لیے کیے گیے انتظامات میں ہونے والی بدعنوانی کے مقدمے میں سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی سمیت تین ملزمان کو قید کی سزا سنا دی ہے۔
سپیشل جج سینٹرل نذیر احمد نے جمعے کو فیصلہ سناتے ہوئے حامد سعید کاظمی اور سابق ایڈیشنل سیکریٹری مذہبی امور آفتاب اسلام کو دو مقدمات میں چھ، چھ برس قید اور 14 کروڑ 83 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دینے کا حکم سنایا۔
جرمانے کی عدم ادائیگی پر ان مجرمان کو مزید دو برس قید بھگتنا ہوگی۔
عدالت نے سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو تین مقدمات میں مجموعی طور پر 18 برس قید کی سزا سنائی جبکہ انھیں بھی 14 کروڑ 93 لاکھ روپے جرمانہ دینا ہوگا اور عدم ادائیگی پر انھیں بھی مزید دو سال قید بھگتنا ہوگی۔
خیال رہے کہ ان مجرمان کی تمام سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی اور اس لحاظ سے یہ چھ سال کا عرصہ قید میں گزاریں گے۔
جب فیصلہ سنایا گیا تو تینوں ملزمان عدالت کے احاطے میں موجود تھے اور فیصلے کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ مجرمان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلینج کریں گے۔
عدالت نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم احمد فیض کو جو تاحال مفرور ہیں، وطن واپس لانے کے لیے ایف آئی اے کو تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے جن میں انٹرپول سے رابطہ بھی شامل ہے۔
حاجیوں کے لیے رہائش کے حصول میں مبینہ بدعنوانی کا معاملہ سنہ 2010 میں پیپلز پارٹی دورِ حکومت میں سامنے آیا تھا اور ان افراد پر عازمین حج کے لیے مہنگے داموں کرائے پر عمارتیں حاصل کرنے کا الزام تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
ابتدائی طور پر اس وقت کے حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمان گروپ) سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر اعظم سواتی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حج انتظامات میں بدعنوانی کا الزام عائد کیا تھا۔
حج انتظامات میں ہونے والے مبینہ بدعنوانی کی نشاندہی نہ صرف ارکان پارلیمنٹ بلکہ سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی کی تھی۔
سعودی شہزادے بندر بن خالد بن عبدالعزیزالسعود نے بھی اس سلسلے میں پاکستان کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اُن کے پاس اس بدعنوانی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔
خط میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حج کے دوران 35000 پاکستانی حاجیوں کے لیے حرم سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر جو رہائش گاہیں 3350 سعودی ریال میں مل رہی تھیں وزارت حج کے اعلیٰ حکام نے حرم سے ساڑھے تین کلومیٹر دور وہی رہائش گاہیں عازمین حج کے لیے 3600 ریال پر حاصل کی تھیں۔
اس خط پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر ہی شروع ہوئی تھی۔
اس مقدمے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی کے رکن عبدالقادر گیلانی سے بھی تحقیقات کی گئی تھیں۔







