’حج کوٹہ کی تقسیم غیر قانونی قرار‘

اس سال نوے ہزار پاکستانی سرکاری طور پر اور اتنے ہی حاجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج کا فریضہ انجام دیں گے
،تصویر کا کیپشناس سال نوے ہزار پاکستانی سرکاری طور پر اور اتنے ہی حاجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج کا فریضہ انجام دیں گے

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے حکومتِ پاکستان کی طرف سے حج پالیسی کے تحت ٹور آپریٹرز کو دیے جانے والے حج کوٹہ کی تقسیم کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

فل بینچ نے یہ حکم ایک نوعیت کی ان مختلف درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے دیا ہے جن میں حج پالیسی دو ہزار گیارہ کے تحت نئے ٹور آپریٹرز کو کوٹہ نہ دینے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اعجاز احمد چوہدری نے گزشتہ ماہ حج گروپ حج پالیسی کے خلاف درخواستوں پر ابتدائی سماعت کے بعد اپنی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا اور پیر کو کارروائی مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیاجو چندگھنٹوں کے وقفے کے بعد سنایا گیا۔

چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ اعجاز احمد چوہدری کی سربراہی میں فل بینچ نے ہدایت کی ہے کہ تمام حج آپریٹرز کو مساوی موقع ملنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے نئے سرے سے تمام درخواستوں کاغیر جانبدارنہ جائزہ لیا جائے۔

فل بینچ نے یہ بھی ہدایت کی کہ شفاف انداز میں حج کوٹہ کا جائزہ لیا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر اہل افراد کو قانون کے مطابق کوٹہ تقسیم کیا جائے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق حج گروپ آرگنائزر بننے کے امیدوار ٹور آپریٹرز نے حج پالیسی کو چیلنج کرتے ہوئے درخواستوں میں یہ اعتراض اٹھایا کہ حکومتِ پاکستان نے پابندی لگائی ہے کہ حج پالیسی کے تحت اس برس کسی نئے ٹورآپریٹر کو حج کوٹہ نہیں ملے گا یعنی کسی نئے ٹور آپریٹر کو حاجیوں کے گروپ لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ٹور آپریٹرز کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے یہ نکتہ اٹھایا کہ نئی حج پالیسی بنیادی شہری حقوق کے منافی ہے۔ وکیل کے مطابق آئین تمام شہریوں کو مساوی موقع فراہم کرتا ہے۔

درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ حج پالیسی کے تحت ٹو آپریٹرز کو کوٹے کی تقسیم بنیادی حقوق کے برعکس ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالتی کارروائی کے دوران وفاقی حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ حج پالیسی کے تحت حج کوٹہ پر پابندی حکومت پاکستان اور سعودی حکومت کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت لگائی ہے۔

درخواست گزار وکیل کے بقول حکومت پاکستان کی حج پالیسی کے تحت ساڑھے سات سو کے قریب حج ٹور آپریٹرز کو کوٹہ دیا گیا تھا جو عدالتی فیصلے کے بعد اب منسوخ ہوگیا ہے ۔

اطلاعات کے مطابق اس سال نوے ہزار پاکستانی سرکاری طور پر اور اتنے ہی حاجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج کا فریضہ انجام دیں گے۔