کوئٹہ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال سے مریض دربدر

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن کے ہڑتال کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے۔
ہڑتال کی وجہ سے سرکاری ہسپتال مریضوں سے خالی ہوگئے ہیں۔
بلوچستان میں نوجوان ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے پیرا میڈیکس گذشتہ دو ماہ سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج پر ہیں۔
اس احتجاج میں مزید شدت لاتے ہوئے گذشتہ ررز بدھ کو نئے مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں داخل نہیں کیا گیا۔
ان میں ایسے مریض بھی شامل تھے جو بےہوش تھے انھیں ان کے رشتہ دار انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لائے تھے۔

جہاں نئے مریضوں کو داخل کرنے کا سلسلہ بند کیا گیا وہاں نوجوان ڈاکٹروں نے ہسپتالوں کے وارڈوں پر یہ نوٹس بھی لگا دیا ہے کہ پہلے سے داخل مریضوں کو جمعرات کی شب آٹھ بجے تک ڈسچارج کر دیا جائے گا۔
کلیم اللہ نامی ایک شخص نے بتایا کہ ان کی والدہ انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں تھیں جہاں سے ان کو زبردستی ڈسچارج کر دیاگیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وارڈوں کی تالا بندی کے اعلان کے باعث مریض اور ان کے لواحقین پریشانی کے عالم میں سول ہسپتال کوئٹہ سے نکلتے رہے اور سول ہسپتال کوئٹہ کے وارڈ مریضوں سے خالی ہو گئے۔
وارڈوں سے زبردستی ڈسچارج کیے جانے والوں میں مسلم باغ سے کوما میں ایک چار سالہ بچہ شیر رحمان بھی تھا۔
جب سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر عبد الرحمان میاں خیل سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا اس صورت حال کے بارے محکمۂ صحت کے حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں ایک ایمرجنسی سیٹ اپ قائم کیا گیا ہے جہاں مریضوں کا علاج معالجہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب جہاں ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس کا پریس کلب کے باہر دھرنا اور علامتی بھوک ہڑتال جاری رہی، وہیں وہ احتجاجی کیمپ کے ساتھ لگے عارضی اوپی ڈی میں مریضوں کا معائنہ بھی کرتے رہے۔
سرکاری حکام کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کے بند ہونے کا ذمہ دار نوجوانوں ڈاکٹروں کی ضد اور ہٹ دھرمی کو قرار دے رہے ہیں۔
اس کے برعکس نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر حفیظ اللہ مندوخیل کہتے ہیں کہ سرکاری حکام کو عوام اور ڈاکٹروں کے مسائل کا احساس نہیں جس کے باعث وہ احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں۔







