ملک بھر میں شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کا حکم

موجودہ حکومت کے دور میں دو لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈ منسوخ کیے جا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنموجودہ حکومت کے دور میں دو لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈ منسوخ کیے جا چکے ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے حکام کو ملک بھر میں جاری کیے گئے شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کرنے کا حکم دیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے یہ حکم افغان طالبان کمانڈر ملا اختر منصور کے پاس مبینہ پاکستانی شناختی کارڈ کی موجودگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد دیا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد جائے حادثہ سے ولی محمد کے نام سے شناختی کارڈ ملا تھا۔ شناختی کارڈ ملنے کے بعد پاکستانی اداروں پر یہ سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ کس طرح ایک افغان شدت پسند لیڈر کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہے جس پر وہ بیرون ممالک کے سفر بھی کرتا رہا ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے نادرا کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ دو روز کے دوران روڈ میپ طے کرکے دیں کہ کس طرح ان شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ دنیا کو یہ پیغام نہیں جانا چاہیے کہ پاکستانی شناختی کارڈ جو کوئی بھی چاہے خرید سکتا ہے اور پیسے دے کر حاصل کرسکتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کے بعد یہ معاملہ سامنے آئے گا کہ کتنے غیر ملکیوں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں۔

بلوچستان میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد جائے حادثہ سے ولی محمد کے نام سے شناختی کارڈ ملا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد جائے حادثہ سے ولی محمد کے نام سے شناختی کارڈ ملا تھا

یاد رہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں دو لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق کا عمل احسن طریقے سے کیا جائے اور عام شہریوں کو اس سے متعلق کوئی پریشانی نہ ہو۔

اُنھوں نے نادرا کے چیئرمین کو حکم دیا کہ وہ اس ادارے میں موجود بدعنوان عناصر کے خلاف فوری کارروائی کریں کیونکہ اتنے حساس ادارے میں بدعنوان عناصر کو کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔