ملا منصور کی ’ہلاکت‘، سینیٹ میں تحریک التوا

تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ اگر ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں ہلاک نہیں بھی ہوا تو پھر بھی صوبہ بلوچستان میں ڈرون حملہ ہی ایک خطرناک عمل ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ اگر ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں ہلاک نہیں بھی ہوا تو پھر بھی صوبہ بلوچستان میں ڈرون حملہ ہی ایک خطرناک عمل ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت، ملکی سلامتی اور علاقائی صورت حال کو زیر بحث لانے کے لیے پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایک تحریک التوا جمع کروائی ہے۔

سینیٹ سیکریٹیریٹ میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے جمع کروائی گئی اس تحریک میں کہا گیا ہے کہ اگر ملا منصور کی ہلاکت کی خبر درست ہے تو پھر یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر دنیا کو مطلوب دہشت گرد مارا گیا ہے۔

اس سے پہلے پانچ سال قبل القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے پاکستانی حکام ملا اختر منصور کی پاکستان میں موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔

اس تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ یہ تاثر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ بعض ریاستی عناصر شدت پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔

تحریک التوا میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں ہلاک نہیں بھی ہوئے تو پھر بھی صوبہ بلوچستان میں ڈرون حملہ ہی ایک خطرناک عمل ہے۔

یہ تحریک التوا سینیٹ سیکرٹریٹ میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے جمع کروائی گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیہ تحریک التوا سینیٹ سیکرٹریٹ میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے جمع کروائی گئی

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ جو لوگ شدت پسندوں کے لیے ہمدردی کا کوئی جذبہ نہیں رکھتے ان کو بھی اس ڈرون حملے پر شدید تشویش ہے۔

اس تحریک التوا میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں بلوچستان میں کارروائی نہ کرنے کے حوالے سے طے شدہ مبینہ ’ریڈ لائن‘ بھی عبور کر لی گئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی مشابہت ملا اختر منصور سے ہے جبکہ کاغذات میں اس کی شناحت محمد ولی کے نام سے ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس شخص کی ایران سے واپسی کے بارے میں بھی مختلف سوالات جنم لیتے ہیں۔

ان کے مطابق مذکورہ شخص کی لاش کو جلد بازی میں اس کے بھانجے کے حوالے کردیا گیا اور ان سے جائے حادثہ سے ملنے والے کاغذات کی جانچ پڑتال بھی نہیں کروائی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ خارجہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے اس بیان سے بھی کافی سوالات جنم لیتے ہیں جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ پاکستان طالبان کمانڈرز کو پناہ اور معاونت فراہم کرتا ہے۔