’چھوٹو ایک شخص کا نہیں ایک سوچ کا نام ہے‘

دس سال تک ممتاز جزیرے کے اس کنارے کو تو دیکھ سکتی تھیں جہاں ان کے پیارے تھے لیکن ان تک پہنچنا ممتاز کے لیے ناممکن تھا
،تصویر کا کیپشندس سال تک ممتاز جزیرے کے اس کنارے کو تو دیکھ سکتی تھیں جہاں ان کے پیارے تھے لیکن ان تک پہنچنا ممتاز کے لیے ناممکن تھا
    • مصنف, صبا اعتزاز
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راجن پور

بستی نہال کی 18 سالہ ممتاز کی کہانی کچا جمال کے علاقے میں چھوٹو گینگ کی پھیلی ہوئی دہشت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

چھوٹو گینگ نے ممتاز کے بوڑھے والد کو اغوا کیا تھا اور چھے مہینے یرغمال رہنے کے بعد آخر کار انھیں اپنی جان کی امان کی قیمت بیٹی کی پوری زندگی سے چکانا پڑی۔

سات سال کی عمر میں ممتاز کی شادی پہلے غلام رسول عرف چھوٹو بکھرانی کے سب سے قریبی ساتھی سے کی گئی اور پولیس مقابلے میں اس کی ہلاکت کے بعد ممتاز کی شادی جبری طور پر چھوٹو کے بھائی سے کر دی گئی۔

کچا جمال میں ہونے والے حالیہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں برآمد ہونے والے یرغمالیوں میں ممتاز اور ان کے تین بچے بھی شامل تھے۔

دس سال تک ممتاز اس جزیرے کے اس کنارے کو تو دیکھ سکتی تھیں جہاں ان کے پیارے تھے لیکن ان تک پہنچنا ممتاز کے لیے ناممکن تھا۔

انھوں نے بتایا ’میں ان کے سامنے روتی تھی کہ میں چھوٹی ہوں ، بڑی ہو کر شادی کر لوں گی لیکن انھوں نے میری ایک نہ سنی۔ شروع میں بس روتی تھی، اماں کو یاد کرتی تھی مگر انھوں نے مجھے بتایا کہ اب تم بس یہیں رہو گی ہمیشہ کے لیے۔‘

فوج کے اہلکاروں کے مطابق بازیاب کروائے جانے والے یرغمالیوں میں قریبی دیہات کی 25 خواتین اور 13 بچے بھی شامل تھے

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنفوج کے اہلکاروں کے مطابق بازیاب کروائے جانے والے یرغمالیوں میں قریبی دیہات کی 25 خواتین اور 13 بچے بھی شامل تھے

ان کا کہنا ہے کہ اس جزیرے پر صرف چھوٹو گینگ کا ہی نہیں بلکہ کئی اور جرائم پیشہ گروہوں کا بسیرا تھا۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا اس جزیرے پر موجود تمام گروہوں کے ارکان کو گرفتار کر لیا گیا یا وہ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

ممتاز نے بتایا ’یہ سب کا مشترکہ فیصلہ تھا کہ پولیس کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے جائیں گے ، کیونکہ پولیس ان کا بیان نہ سنتی صرف انھیں مار دیا جاتا۔‘

راجن پور اور رحیم یار خان کے درمیان کی دریائی پٹی کا علاقہ دہائیوں سے درجنوں جرائم پیشہ گینگز کا آشیانہ رہا ہے۔ پولیس ان کے خلاف بارہا کارروائی کرنے کے دعوے تو کرتی رہی لیکن آخر میں بگڑتے حالات سے نمٹنے کے لیے فوج کو آپریشن کرنا پڑا جن کے سامنے چھوٹو گینگ نے بغیر مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے۔

ایک مقامی بزرگ نے بی بی سی کو بتایا ’یہ گروہ دریا کی مچھلیاں بن چکے ہیں۔مختلف جزیروں کو اپنا آشیانہ بناتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ تیر کر بھی نکل جاتے ہیں۔ یہ صرف اس جزیرے تک محدود نہیں ہیں جہاں کارروائی کی گئی۔‘

بی بی سی کو ان مقامی کشتی والوں تک بھی رسائی ملی جو دریا کے کناروں پر چھوٹوگینگ کو پروان چڑھتا دیکھتے رہے۔

محمد اسماعیل کی ٹوٹی ہوئی کشتی کا ڈھانچہ دریا کی لہروں کے ساتھ کنارے پر ڈول رہا ہے
،تصویر کا کیپشنمحمد اسماعیل کی ٹوٹی ہوئی کشتی کا ڈھانچہ دریا کی لہروں کے ساتھ کنارے پر ڈول رہا ہے

ان سے بات کی تو مقامی آبادی کی جانب سے انتظامیہ پر اعتماد کی واضح کمی دکھائی دی۔ ان کے مطابق چھوٹو گینگ سے زیادہ انھیں پولیس اہلکار تنگ کرتے ہیں۔

55 سالہ محمد اسماعیل اب ایک کشتی کے بغیر ملاح ہیں اور ان کی ٹوٹی ہوئی کشتی کا ڈھانچہ دریا کی لہروں کے ساتھ کنارے پر ڈول رہا ہے۔

انھوں نے کہا ’پولیس ہر سال کارروائی کرتی ہے ، ہماری کشتیاں کارروائی کے لیے قبضے میں لے لی جاتی ہیں ، نہ ہی کوئی مجرم پکڑا جاتا ہے اور نہ ہی ہمارے نقصان کا ازالہ کیا جاتا ہے، ان حالات میں چھوٹو کیوں بنتے ہیں ، آپ خود ہی سمجھدار ہیں۔‘

دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ دریائی پٹی کے علاقے کو کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ہر سال آنے والے سیلابوں کے نتیجے میں ابھرنے والے جزیروں پر کئی سالوں سے درجنوں جرائم پیشہ گروہ اپنی جڑیں مضبوط کرتے رہے ہیں۔

مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کے ان علاقوں میں باقاعدہ حکومتی رٹ کی بجائے بااثر سرداروں اور قبائلی سیاست کا نظام ہے۔ علاقے میں غربت کا راج ہے اور بنیادی انفراسٹرکچر کی واضح کمی ہے اور لوگ انتظامیہ کے نہیں بلکہ اپنے علاقائی سرداروں کے رحم وکرم پر زندہ ہیں۔

مقامی صحافی اور تجزیہ کار ایم ڈی گانگا نے بتایا ’یہ علاقے جرائم پیشہ افراد کی فیکٹریاں ہیں جو جاگیرداروں کے ظلم اور ستم اور ناانصافیوں کی وجہ سے مجرم بنتے ہیں۔ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے لوگوں کو تحفظ نہ دے سکیں تو پھر بدعنوانی اور جرائم کی دنیا کے چھوٹو گینگ پیدا ہوتے ہیں۔‘

چھوٹو گینگ نے ممتاز کے بوڑھے والد کو اغوا کیا تھا اور چھے مہینے یرغمال رہنے کے بعد آخر کار انھیں اپنی جان کی امان کی قیمت بیٹی کی پوری زندگی سے چکانا پڑی
،تصویر کا کیپشنچھوٹو گینگ نے ممتاز کے بوڑھے والد کو اغوا کیا تھا اور چھے مہینے یرغمال رہنے کے بعد آخر کار انھیں اپنی جان کی امان کی قیمت بیٹی کی پوری زندگی سے چکانا پڑی

انھوں نے بتایا کہ اکثر افراد پولیس کے رویے سے تنگ آ کر سرداروں کی مدد لیتے ہیں اور سیاسی مقاصد کو مستحکم کرنے کے لیے اکثر گینگز کو ان جاگیرداروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جو پکڑے جانے پر ان افراد کو رہا بھی کرواتے ہیں۔

25 سالہ شوکت علی ایک کسان ہیں جنھوں نے اپنے علاقے سے کئی لوگوں کو جرم کی دنیا میں قدم رکھتے دیکھا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں ان گینگز کے خلاف پولیس کارروائیوں کی آڑ میں یہاں کے لوگوں کی گندم کی کٹی فصلیں بھی اٹھائی جا چکی ہیں۔

’یہ ان لوگوں کے خلاف کئی کارروائیوں میں سے ایک تھی۔ یہ لوگ تو ہاتھ نہیں آتے لیکن دوسرے غریب لوگوں کا مال اور فصل ان کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ کبھی ان افراد کے رشتے داروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ ان کا کیا قصور ہے؟ پھر ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوتا کہ وہ سرداروں سے مدد لیتے ہیں اور پھر ان کے غلام ہو جاتے ہیں۔‘

مقامی صحافیوں کے مطابق چھوٹو سمیت متعدد جرائم پیشہ افراد ماضی میں پولیس کے مخبر بھی رہے ہیں اور پولیس کے بعض اہلکار ان کے سہولت کار بھی شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں معاملہ پولیس کے ہاتھ سے نکل گیا اور فوجی کارروائی کی ضرورت پیش آئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ماضی میں وسائل کی کمی اور سیاسی وجوہات ان گینگز کے خلاف ناکامی کی وجہ بنیں
،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ ماضی میں وسائل کی کمی اور سیاسی وجوہات ان گینگز کے خلاف ناکامی کی وجہ بنیں

مقامی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس کے رویے کے بارے میں عوامی الزامات کی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کم از کم ان کے زیر انتظام علاقے میں ایسے واقعات پیش نہیں آ رہے۔

پولیس افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں وسائل کی کمی اور سیاسی وجوہات ان گینگز کے خلاف ناکامی کی وجہ بنیں۔

انھوں نے کہا کہ چھوٹو کے جزیرے کی طرح اس علاقے میں کئی اور جزیرے جن میں سے کچھ پر شدت پسند تنظیموں سے وابستہ لوگ بھی موجود ہیں۔ یہ ایک طرح کا نیٹ ورک ہے اور مختلف جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو ایک دوسرے کی حمایت حاصل ہے۔

ملک میں سماجی ، معاشی اور اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے جرائم کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں اور انھیں کی بیخ کنی کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ’نو گو ایریاز‘ کے خلاف فوج کے محاذ کے ساتھ ساتھ حکومت بھی جرائم کی ان گہری جڑوں تک پہنچ کر انھیں اکھاڑنے کی کوشش کرے گی؟

،تصویر کا ذریعہbbc