خیبر اور ٹانک میں فائرنگ، امن کمیٹی سے وابستہ سات افراد ہلاک

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف امن کمیٹی کے دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں بھی مسلح افراد کی فائرنگ سے طالبان مخالف سابق امن کمیٹیوں کے تین رضاکار مارے گئے ہیں۔
خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں فائرنگ کا واقعہ سنیچر کی شام لنڈی کوتل تحصیل کے دور افتادہ پہاڑی علاقے بازار ذخہ خیل میں پیش آیا۔
انھوں نے کہا کہ توحید اسلام نامی حکومتی حامی امن کمیٹی کے دو کمانڈروں کے حامیوں کے درمیان کسی بات پر جھڑپ ہوئی جس پر دونوں طرف سے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔
فائرنگ کے نتیجے میں چار رضاکار ہلاک ہوگئے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مرنے والے افراد کا تعلق کس گروپ سے ہے۔
بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح جھڑپ توحید اسلام کے دو دھڑوں کے درمیان ہوئی ہے جن کے درمیان کشیدگی پہلے سے چلی آرہی تھی۔
یاد رہے کہ بازار زخہ خیل لنڈی کوتل تحصیل کا ایک دور افتادہ علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں چند سال پہلے تک کالعدم تنظیموں کا اثر رسوخ زیادہ سمجھا جاتا تھا۔
تاہم سکیورٹی فورسز اور امن لشکروں کی کارروائیوں کی وجہ سے اس علاقے سے اب شدت پسندوں کا صفایا کردیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس علاقے میں شدت پسندوں اور امن لشکروں کے درمیان متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوچکی ہیں جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
ادھر خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے سابق امن کمیٹی کے تین رضاکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ایک رضاکار کی ہلاکت اتوار کی صبح ہوئی جبکہ دو کو سنیچر کی شب مارا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ٹانک کے علاقے جندر کے قریب مسلح افراد نے حکومت کی حامی سابق امن کمیٹی کے دو رضاکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے دونوں موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔
ابھی تک کسی تنظیم کی طرف سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں چند سال پہلے حکومت کی طرف سے شدت پسندوں کے اثرورسوخ میں کمی اور امن عامہ پر قابو پانے کے لیے امن لشکروں اور کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔
تاہم اب بیشتر علاقوں میں امن کمیٹیاں غیر فعال ہیں یا ختم کر دی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود سابق رضاکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ایسے حملوں میں اب تک درجنوں رضاکار مارے جا چکے ہیں۔







