مہمند ایجنسی: تین دھماکوں میں دو اہلکار ہلاک

 مہنمد ایجنسی میں دو روز پہلے سابق امن کمیٹی کے ایک رضا کار سمیت دو افراد ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن مہنمد ایجنسی میں دو روز پہلے سابق امن کمیٹی کے ایک رضا کار سمیت دو افراد ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند اور لوئر کرم ایجنسی میں تین دھماکوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور لیویز کا ایک، اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔

مہمند ایجنسی کے سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ یہ دھماکے جمعے کو تحصیل پنڈیالی کے علاقے داوزئی میں ہوئے۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سڑک کنارے نصب کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق فرنٹیئر کانسٹیبلری اور لیویز کے اہلکار اس علاقے میں معمول کے گشت پر تھے کہ اس دوران دو دھماکے ہوئے جس میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا لیکن کسی گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی آپریشن الرعد کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ مہنمد ایجنسی میں دو روز پہلے سابق امن کمیٹی کے ایک رضا کار سمیت دو افراد ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ دھماکہ بھی تحصیل پنڈیالی میں ہی کیا گیا تھا۔

ادھر لوئر کرم ایجنسی میں شہیدانو ڈنڈ کے مقام پر فرنٹیئر کور کی ایک چوکی کے قریب دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

مقامی اہلکاروں نے بتایا کہ دونوں زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

اس حملے کے بعد پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

دوسری جانب پشاور کے رہائشی علاقے حیات آباد میں پولیس نےجمعرات کی رات سے سرچ آپریشن شروع کیا جس میں غیر قانونی طور پر مقیم 85 افغان پناہ گزینوں سمیت 200 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس حسن افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار افراد میں کچھ مشبہ افراد ہیں جبکہ ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو اس علاقے میں کام کرتے ہیں یا ریڑھی لگاتے ہیں۔