ایک طرف گڑھا، دوسری طرف شیر
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
طورخم پر پاک افغان سرحد کی بندش سے ہزاروں لوگ دونوں جانب پھنس گئے ہیں ، پشاور میں علاج کی غرض سے آئے افغان شہری اب سڑک کے کنارے پڑے سرحد کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ لوگ پشاور میں حیات آباد سے کارخانوں کی جانب جانے والے راستے پر سڑک کے کنارے بیٹھے ہیں ۔ انھوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے پشتو کا ایک محاورہ بیان کیا کہ ’یو طرف تہ گڑانگ دے اور بل طرف تا پڑانگ‘ جس کا مطلب ہے ایک طرف گڑھا ہے اور دوسری جانب شیر ہے مطلب نے آگے جا سکتے ہیں اور ناں ہی واپسی کا راستہ ہے ۔
ایک بزرگ شہری عبدالجمیل نے کہا کہ وہ بیوی کو علاج کے لیے یہاں لایا تھا آج صبح پانچ بجے گاڑیوں کے اڈے پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ راستہ بند ہے اس وقت سے اب شام ہونے کا ہے اور ہم اس سڑک کے کمارے پڑے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آگے اس لیے نہیں جا سکتے کہ سرحد بند ہے اور واپس اس لیے نہیں جا سکتے کہ ایک تو ساری رقم علاج پر خرچ ہو گئی اور دوسرا یہ کہ ان کا یہاں کوئی رشتہ دار نہیں ہے شہر میں اگر جاتے ہیں تو پولیس پکڑتی ہے ۔
عبدالجمیل نے بتایا کہ ان کی بیوی ذیابطیس کی مریض ہے ڈاکٹروں نے اس کا پنجہ کاٹ دیا ہے اب وہ چلنے سے بھی قاصر ہے ایسے صورتحال میں وہ کیا کر سکتا ہے ۔
اسی طرح سڑک کے کنارے ایک باریش شحص بیٹھا دوائیوں کا بنڈل ایک ساتھی کو دکھا رہا تھا ۔ اس شخص نے بتایا کہ ڈاکٹر کے کلینک کے پاس ایک شخص نے اس سے چھ ہزار روپے لیے اور ڈاکٹر کو تین ہزار روپے دیے اور دوائیوں میں بھی اس سے ایک ہزار روپے زیادہ لے لیے ہیں ۔ اس شخص کی چھوٹی بچی بیمار تھی اور وہ اسے علاج کے لیے لایا تھا ۔
افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے ایک شہری ولا جان اپبی بیوی کو پشاور میں شوکت خانم ہسپتال میں علاج کے لیے آیا تھا۔ ولا جان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چھ روز تک علاج کے بعد آج صبح پانچ بجے واپس جانے کے لیے آیا تو معلوم ہو کہ راستہ بند ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں کوئی شفاخانہ یا ہسپتال نہیں ہے اس لیے مجبوراً علاج کے لیے یہاں آتے ہیں ، یہ دیکھو سب لوگ خواتین اور بچوں کے ساتھ یہاں آئے ہیں اب مجوراً سڑک کے کنارے پڑے ہیں ایک طرف خرچہ بہت ہو جاتا ہے اور دوسری جانب مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔‘

افغانستان جانے والے گاڑیوں کے اڈے پر لوگ جمع تھے لیکن گاڑیاں خاموش کھڑی تھیں انھیں انتطار ہے کہ یہ اطلاع پہنچے کہ راستہ کھل گیا ہے تو وہ گاڑیاں روانہ کریں گے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس اڈے کے سامنے انتظار کرنے والے سارے علاج کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ بڑی تعداد میں ایسے افغان شہری بھی تھے جو صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں سے یہاں پہنچے تھے تاکھ افغانستان جا سکیں۔
آج بدھ کو شام تک یہ واضح نہیں ہوا کہ سرحد کب تک کھلے گی ۔ اب سے تھوڑی دیر پہلے یعنی شام چھ بجے تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے اعلی حکام کے مابین مذاکرات ہوئے ہیں لیکن اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ۔
پاکستان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ سرحد اس وقت کھلے گی جب انھیں سرحد پر باڑ نصب کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔
طور خم کے مقام پر دونوں جانب سے روزانہ لگھ بھگ پندرہ سے بیس ہزار افراد یہ سرحد عبور کرتے ہیں ان میں زیادہ تعداد افغانستان سے پاکستان کی جانب سفر کرتی ہے ۔







