تحریک انصاف کا ” کرپشن مٹاؤ ملک بچاؤ ”

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان تحریک انصاف نے ’ کرپشن مٹاؤ ملک بچاؤ‘ نعرے کے تحت منگل سے اپنے مارچ کا آغاز کردیا ہے، جس کی قیادت تنظیم کے شاہ محمود قریشی کر رہے ہیں مخدوم سندھ میں بڑی تعداد میں مریدوں اور عقیدت کی ایک بڑی تعداد رکھتے ہیں۔
اسلام آباد میں اتوار کو جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سندھ سے اپنی تحریک کے اعلان کیا تھا، یہ مارچ پانچ روز سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا، پنجاب کی حدود میں داخل ہوگا۔
شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں یہ مارچ ملیر، ٹھٹہ، سجاول، بدین سے ہوتا ہوا رات کو عمرکوٹ پہنچے گا، دوسرے روزے میر پور خاص اور سانگھڑ سے ہوتا ہوا رات سکرنڈ میں گذارے گا۔ تیسرے روز نواب شاہ، نوشہرو فیروز سے گذر کر خیرپور پہنچے گا۔
چوتھے روز لاڑکانہ، شہداد کوٹ، شکارپور میں اجتماعات ہوں گے اور رات کو مارچ سکھر پہنچے گا، اگلے روز اس مارچ کی قیادت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کریں گے جس کے بعد یہ مارچ گھوٹکی اور کشمور سے ہوتا ہوا رحیم یار سے پنجاب میں داخل ہوجائے گا۔
شاہ محمود قریشی نے کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مارچ 14 اضلاع کے چھوٹے بڑے قصبات سے گذرے گا، ان کا مقصد وہاں بڑے جلسے نہیں بلکہ اپنا پیغام پہنچانا ہے اور وہ پر امید ہیں کہ سندھ کرپشن کے خلاف اول دستہ ثابت ہوگا۔
’سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یکم مئی کو واپس آئیں گے اس کے بعد وہ پاناما لیکس کے الزامات کے تحقیقاتی کمیشن پر اپنی رائے دیکھیں گے، ہم ان کے فیصلے کے منتظر ہیں، کیونکہ اس سے ہمیں اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کو مرتب کرنے میں آسانی ہوگی۔‘
شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پنجاب بار کاؤنسل کے ذمہ داروں نے بتایا ہے کہ اس ہفتے وہ ایک نمائندہ اجلاس بلا رہے ہیں، جس میں پاناما لیکس اور کمیشن کے ٹرم آر ریفرنس پر وہ اپنا رد عمل دیں گے، یہ معاملہ صرف سیاسی نہیں یہ قانونی اور اخلاقی بھی ہے، اس میں سول سوسائٹی نے اپنا کردار ادا کرناہے۔
شاہ محمود قریشی نے میڈیا اور اینکرپرسن کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے یہ معاملہ اٹھایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سندھ سے تحریک کا آغاز کیوں؟

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ اس تحریک کا آغاز اسلام آباد کے جلسے میں ہوا تھا، جہاں پنجاب اور خیبر پختون خواہ سے بھی لوگوں نے شرکت کی تھی، یہ ملک گیر تحریک ہے۔
تحریک انصاف کراچی کے رہنما عمران اسماعیل نے بی بی سی کو بتایا سندھ میں پہلے ہی 26 سے 29 اپریل تک پروگرام مجوزہ تھا اب اس کو پاناما لیکس کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ ’لوگ اس وقت کرپشن سے تنگ ہیں ہم چاہتے ہیں کہ سندھ بھی اس کرپشن کے خلاف کھڑا ہوجائے۔‘
تجزیہ نگار شہاب اوستو کا کہنا ہے کہ عمران خان پاکستان کی تین بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ یہ پیغام دیں دیں کہ یہ تینوں جماعتیں کرپشن کے نظام کو بچانا چاہتی ہیں اور ان کی قیادت مصحلت کا شکار ہے۔
شہاب اوستو کا خیال ہے کہ مستقبل میں جماعت اسلامی اور مصطفیٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی اتحادی نظر آتی ہیں۔ ان جماعتوں نے بھی کرپشن کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔
’پیپلز پارٹی نے دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ پنجاب میں وہ نواز شریف حکومت کے خلاف نظر آتی ہے۔ اعتراز احسن اور دیگر رہنماؤں نے کافی دباؤ ڈالا ہوا وہ تقریباً تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ اپوزیشن رہنما خورشید شاہ اور سندھ حکومت تھوڑا نرم رویہ رکھتی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہ نہیں چاہتے کہ نظام بیٹھ جائے اور دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑے۔‘
تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو امید ہے کہ سندھ میں خراب حکمرانی اور کرپشن کی وجہ سے انہیں حمایت مل سکتی ہے، اس وجہ سے انھوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز یہاں سے کیا ہے۔ وہ یہ بتانا چاہے رہے ہیں کہ عوام مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں سے تنگ ہیں۔
تحریک انصاف کو گزشتہ عام انتخابات میں کراچی میں بڑی تعداد میں ووٹ ملے تھے، تاہم بلدیاتی انتخابات میں اس کو اس قدر کامیابی نہیں ملی، جس کی توقع کی جارہی ہے۔ دوسرا دہچکا اس کو اس وقت لگا جب ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار امجد اللہ خان ایم کیو ایم اور رکن صوبائی اسمبلی حفیظ الدین پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوگئے۔ ماضی کے برعکس اس تحریک میں عملی طور پر کراچی کا کردار نظر نہیں آتا۔
تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ پارٹی میں کوئی تکرار نہیں کچھ کمزوریاں ضرور ہیں، جس کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’دراصل پارٹی کے اندر انتخابات کی وجہ سے تنظیم معطل ہے، اس صورتحال میں کوئی سربراہ ہے نہیں جو رہنمائی کرے۔ اب سارے لوگ خود ساختہ رہنما بن گئے ہیں اور وہ اپنے اپنے طور پر کام کریں گے تو اس سے کے غلط نتائج آئیں گے۔‘







