مصطفیٰ کمال ایک بڑا شو کرنے میں’ناکام‘

کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں سے بھی لوگ جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے تھے
،تصویر کا کیپشنکراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں سے بھی لوگ جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے تھے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی کے سیاسی پس منظر پر تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ظہور پذیر ہونے والی جماعت پاک سرزمین پارٹی نے پہلا جلسہ عام منعقد کیا ہے۔

ماضی میں کسی سیاسی جماعت کو اتنے قلیل عرصے میں اس قدر پذیرائی نہیں ملی، تاہم تجزیہ نگار اس جلسے کو کوئی بڑا شو نہیں سمجھتے۔

متحدہ قومی موومنٹ سے علیحدگی کے بعد مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے تین مارچ کو پریس کانفرنس کر کے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد انھوں نے اپنی جماعت کا نام پاک سرزمین پارٹی رکھا۔

اس پارٹی کی قیادت کی تمام تر ناراضگی اور اختلافات کا مرکز متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی شخصیت رہی ہے۔

جلسے کا انعقاد شام پانچ بجے کیا گیا تھا لیکن آٹھ بجے تک سٹیج پر کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی، جس وجہ سے کئی لوگ تقاریر شروع ہونے سے قبل ہی واپس لوٹنا شروع ہوئے تاہم آخر تک لوگوں کے جانے اور آمد کا سلسلہ جاری رہا۔

جلسہ گاہ میں ہزاروں کی تعداد میں کرسیاں لگائی گئیں تھیں لیکن کسی بھی لمحے یہ مکمل طور پر نہیں بھر سکیں۔

جلسے میں شریک مہتاب احمد خدا داد کالونی سے آئے تھے انھوں نے جلسے کو شغل میلہ قرار دیا، بقول ان کے کراچی کو تو ہر کوئی لوٹنے ہی آیا ہے اب دیکھیں یہ کیا کرتے ہیں یہ لوگ متحدہ میں تھے تو کافی کچھ کر گئے۔

مصطفیٰ کمال کے جلسے کے موقع پر محمد علی جناح کے مزار کو عوام کے لیے بند رکھا گیا تھا اور پولیس کے غیر ممعولی حفاظتی انتظامات نظر آئے، دو مقامات پر اسکینر لگائے گئے تھے جن میں جے ڈی سی یعنی جعفریہ ڈزاسٹر سیل کے بھی اسکینر شامل تھے۔

شرکا کے جسمانی تلاشی لینے کی ذمہ داری پارٹی کے رضاکاروں کے حوالے تھی۔

اس جلسے کے شرکا میں سے کئی اپنی فیملیز کے ساتھ آئے تھے، خواتین کی اکثریت سیاہ عبایہ یا برقعے پہنے ہوئی تھی۔ شوہر کی ہمت افزائی کے لیے مصطفیٰ کمال کی بیگم سائرہ مصطفیٰ کمال بھی موجود رہیں۔

ہجرت کالونی کے رہائشی غلام حسین اپنی بیگم کے ساتھ آئے تھے، وہ ویلڈنگ کا کام کرتے ہیں اور جلسے میں اس وجہ سے آئے کہ بقول ان کے مصطفیٰ کمال نئی نسل کو اکٹھا کرنا چاہتا ہے۔

’ہم نے اپنا وقت گزار لیا۔ شاید نئی نسل اکٹھی ہوجائے اور ہمارا اکٹھا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان کو کئی خطرات لاحق ہیں۔ اگر ہم مل جائیں تو کسی کا باپ بھی نہیں ہلا سکتا۔‘

کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں سے بھی لوگ جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔

مسز غفار اپنے بچوں کے ساتھ حیدرآباد سے آئی تھیں
،تصویر کا کیپشنمسز غفار اپنے بچوں کے ساتھ حیدرآباد سے آئی تھیں

مسز غفار اپنے بچوں کے ساتھ حیدرآباد سے آئی تھیں، بقول ان کے اس سے قبل وہ سیاسی سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوئیں۔’اب یہ ایک صاف پلیٹ فارم ملا ہے تو اس میں آگئی ہوں۔‘

ان کی صاحبزادی نائمہ عبدالغفار کا کہنا تھا کہ ’سچ کا ساتھ دینا چاہیے اور مصطفیٰ انکل جو بھی کہہ رہے یا کر رہے ہیں وہ بہت چھا اقدام ہے۔‘

شہر کی پشتون آبادی والے علاقے سے بھی بعض نوجوانوں نے جلسے میں شرکت کی، جن میں اتحاد ٹاؤن کے زیب خان اور ان کے ساتھی بھی شامل تھے۔

زیب خان کے مطابق وہ عوامی نیشنل پارٹی کے حمایتی تھی لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا اب مصطفیٰ کمال آیا سے انھیں امید ہے کیونکہ وہ صاف صاف بات کرتے ہیں۔

باغ جناح کے ایک حصے کو جلسے کے لیے وقف رکھا گیا تھا، پنڈال سے کچھ دور کنٹینروں کی مدد سے اسٹیج تیار کیا گیا تھا جو پاکستان کے قومی پرچم اور لائٹس سے سجا ہوا تھا۔

یہاں سے استاد نصرت علی خان، راحت فتح علی خان اور مہدی حسن کی آواز میں قومی ترانے اور مصطفیٰ کمال کی شان میں گیت چلائے گئے۔

جلسے سے دو روز قبل باغ جناح میں فیملی گالا منعقد کیا گیا
،تصویر کا کیپشنجلسے سے دو روز قبل باغ جناح میں فیملی گالا منعقد کیا گیا

لی مارکیٹ کے رہائشی افتخار حسین پیدل جلسے میں پہنچے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ذوالفقارعلی بھٹو کے شیدائی ہیں لیکن بعد والوں نے بے وفائی کی۔ ’مصطفیٰ کمال کراچی پر چھا گیا ہے کیونکہ یہ لوگوں کو مروانا نہیں چاہتا۔‘

اس جلسے میں تقریباً تمام ہی لوگ اپنے طور پر شریک ہوئے کوئی خصوصی بس سروس نہیں چلائی گئی تھی۔

فیاض احمد اپنی بیگم کے ساتھ ملیر سے آئے تھے آجکل وہ رکشہ چلاتے ہیں جبکہ اس سے قبل وہ کوسٹر کوچ چلاتے تھے۔

’مصطفیٰ کمال نے جو بائی پاس اور انڈر پاس بنائے اس سے ہمیں بہت سہولت ہوئی ان سے قبل سرجانی سے بولٹن تک دو یا پونے دو گھنٹے لگ جاتے تھے بائی پاسوں کی تعمیر سے یہ فاصلہ اب پونے گھنٹے میں طے ہوتا ہے ۔‘

کراچی اور حیدرآباد میں تجارت سے وابستہ بوہری برداری سیاسی سرگرمیوں سے دور رہتی ہے لیکن تحریک انصاف کے بعد اس کمیونٹی کے کچھ لوگ مصطفیٰ کمال کے جلسے میں نظر آئے۔

اقبال بوہری نامی ایک شخص نے بتایا کہ مصطفیٰ کمال نے امن اور نو ٹو غنڈہ گردی کہا ہے یہ دونوں عوام کے مطالبے ہیں، ان کا خیال ہے کہ عمران اور ممطفیٰ کمال کی سوچ ایک جیسی ہے۔

جلسے گاہ میں ہزاروں کی تعداد میں کرسیاں لگائی گئیں تھیں لیکن کسی بھی لمحے یہ مکمل طور پر نہیں بھر سکیں تھیں
،تصویر کا کیپشنجلسے گاہ میں ہزاروں کی تعداد میں کرسیاں لگائی گئیں تھیں لیکن کسی بھی لمحے یہ مکمل طور پر نہیں بھر سکیں تھیں

تجزیہ نگار مظہر عباس اس جلسے کو ایک ایک اچھی سیاسی سرگرمی قرار دیتے ہیں۔

’انھوں نے ابھی تک کوئی پروگرام نہیں دیا ماسوائے اس کے کہ ہم ساری قوموں کے اکٹھا کرنا چاہتے ہیں اور نفرتیں ختم کرنا چاہتے یہ بہت اچھے الفاظ ہیں لیکن حقیقت سے قریب تر ہیں یا نہیں یہ مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھیوں کو سوچنا پڑے گا۔‘

مظہر عباس کے کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ یہ جلسہ ایم کیو ایم کے لیے کئی سوالات چھوڑ کر جا رہا ہے۔

’اگر ایم کیو ایم خود میں تبدیلی نہیں لائی تو ان کی موجودگی ایم کیو ایم کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اس جلسے سے ایم کیو ایم کا کوئی بڑا ووٹ بینک ٹوٹا ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کراچی کی دو کروڑ آبادی میں ہر جماعت 20 سے 25 ہزار لوگ اکٹھے کر لیتی ہے۔‘