پمز ہسپتال میں ذہنی مریضہ کو ریپ کرنے کی کوشش

پولیس کے مطابق ہسپتال کی انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا تاہم پولیس کو اس بارے میں اطلاع نہیں دی گئی
،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق ہسپتال کی انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا تاہم پولیس کو اس بارے میں اطلاع نہیں دی گئی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کے مطابق پمز ذہنی طور پر معذور ایک مریضہ کو نرسنگ سٹاف کے عملے کے ایک اہلکار نے مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

تھانہ کراچی کمپنی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مبینہ طور پر متاثرہ مریضہ کے والد نے تھانے میں ایک درخواست دی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ تین ہفتے قبل اپنی 21 سالہ بیٹی کو علاج کی غرض سے سوات سے اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں لے کر آئے۔

پولیس اہلکار کے مطابق ذہنی طور پر متاثرہ لڑکی کو نمونیے کی شکایت بھی تھی اور انھیں علاج کی غرض سے پمز ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں رکھا گیا تھا جہاں پر دو روز قبل رات کی ڈیوٹی پر مامور نرسنگ سٹاف کے عملے کے ایک اہلکار نے انھیں مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق نرسنگ سٹاف کا ایک اہلکار جب مذکورہ لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا تو وارڈ میں موجود ایک اور مریضہ جاگ گئی جس پر ملزم وہاں سے فرار ہو گیا۔

پولیس کے مطابق ہسپتال کی انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا تاہم پولیس کو اس بارے میں اطلاع نہیں دی گئی۔

مقامی پولیس کے علم میں یہ بات اس وقت نوٹس میں آئی جب مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی والدہ نے مقدمے کے اندراج کے لیے تھانے میں درخواست دی۔

ہسپتال کی انتظامیہ نے اس واقعے کے بعد وقوعہ کے روز رات کی شفٹ پر کام کرنے والے عملے کے تمام ارکان کو معطل کر کے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اگلے دو روز میں اپنی رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کرے گی۔

پولیس اہلکار کے مطابق اس مبینہ واقعے میں ملوث ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔