’قوم سےخطاب کرنا چاہتا ہوں، پی ٹی وی انتظامات کرے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قومی اسمبلی میں حزب مِخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے سرکاری ٹی وی پر تقریر کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن کے حکام کو انتظامات کرنے کے لیےایک مراسلہ تحریر کیا ہے۔
پاکستان ٹیلی ویژن ایک ریاستی ادارہ ہے اور اس ادارے کی انتظامیہ حکومت وقت کی طرف سے دی جانے والی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہے۔
اس مراسلے میں کہاگیا ہے کہ پاناما پیپرز لیکس میں وزیر اعظم کے بیٹوں کا نام آنے کے بعد وفاقی وزرا نے اس معاملے پر قوم کو گمراہ کیا ہے اس لیے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین 10 اپریل کی شام چھ بجے قوم سے خطاب کرکے اُنھیں پاناما لیکس سے متعلق عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
سرکاری ٹی وی پر صدر اور وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا ہے اس کے علاوہ فوجی آمر بھی جمہوری حکومتوں کا تختہ اُلٹنے کے بعد بھی سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPML N
اسلام آباد پولیس کے مطابق سنہ2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی طرف سرکاری ٹی وی اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ کرنے کے مقدمات میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نامزد ملزم ہیں، تاہم پولیس نے ابھی ان مقدمات میں گرفتار نہیں کیا۔
اس مراسلے میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ چونکہ سرکاری ٹی وی قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے چلتا ہے اس لیے حکومت کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کے اراکین بھی ٹیکس دیتے ہیں اس لیے اُن کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ سرکاری ٹی وی پر آکر عوام کو حقائق سے آگاہ کریں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے پاناما لیکس کے معاملے پر سرکاری ٹیلی ویژن پر حزب مخالف کی جماعتوں کو کوریج نہ دینے کے معاملے پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ایک تحریک التوا جمع کروائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سرکاری ٹیلی ویژن نے پاناما لیکس پر حکومتی وزرا اور حزب مخالف کے اراکین کا خطاب نہیں دیکھایا تھا، تاہم نجی ٹی وی چینلز نے قومی اسمبلی ہال کے باہر لگے ہوئے ٹی وی سے سکائپ کے ذریعے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور عمران خان کی تقاریر برہ راست نشر کی تھیں۔
جمعہ کے روز بھی پاناما لیکس پر قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حزب مخالف وزیر اعظم میاں نواز شریف کو جبکہ حکومتی بینچ عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔







