کوئٹہ میں پندرہ لاشیں شناخت کے لیے منتقل

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سرکاری حکام نے 15افراد کی لاشیں شناخت کے لیے سول ہسپتال منتقل کر دی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق مارے جانے والے مبینہ عسکریت پسند تھے جو دو روز قبل سکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں مارے گئے۔
ان افراد کی لاشیں دو مختلف علاقوں قلات اور سبی سے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردی گئیں۔
ان میں سے 10 افراد کی لاشیں جمعرات کی شب ضلع قلات کے علاقے جوہان سے پہلے قلات ہی میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کی گئی تھیں۔
چونکہ بلوچستان کے دور دراز کے علاقوں کے ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں لاشوں کو محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہیں اس لیے قلات سے ان لاشوں کو بھی کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ ان افراد کی تاحال شناخت نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان میں سے پانچ افراد کی لاشیں سبی سے لائی گئی ہیں جو کہ قلات سے لائی جانے والی لاشوں کے برعکس پرانی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
نصر اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ان میں دو عمر رسیدہ افراد کی بھی لاشیں شامل ہیں جبکہ متعدد افراد کے چہروں پر گولیاں بھی ماری گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ جب کسی عسکریت پسند تنظیم کا کوئی فرد مارا جاتا ہے تو وہ باقاعدہ بیان جاری کرتے ہیںگ
ان کا کہنا تھا کہ’تاحال ان افراد کے بارے میں کسی عسکریت پسند تنظیم کا بیان سامنے نہیں آیا اس لیے یہ خدشہ ہے کہ یہ لاپتہ افراد کی لاشیں ہو سکتی ہیں۔‘
جب اس سلسلے میں حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیموں سے تھا۔
انہوں نے کہاکہ یہ افراد قلات کے علاقے جوہان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مارے گئے اور اس آپریشن میں عسکریت پسندوں کے دو کیمپوں کو بھی تباہ کردیا گیا ۔







