گلشنِ اقبال دھماکہ، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق لاہور کے تفریحی مقام گلشن اقبال میں خود کش حملے کی تحقیقات کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب نے پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
سیکریٹری داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکشن میں جے آئی ٹی کے کنویئر ایس پی انوسٹی گیشن انسداد دہشت گردی ہوں گے جبکہ دیگر چار ممبران میں آئی ایس آئی اور آئی بی کی افسران سمیت انچارج انوسٹی گیشن اقبال ٹاون پولیس سٹیشن اور ایس ایچ او پولیس سٹیشن محکمہ انسداد دہشت گردی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہوں گے۔
گلشنِ اقبال پارک میں اتوار کو ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 68 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس حملے میں 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی حالت اب بھی تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
جے آئی ٹی گلشن اقبال پارک خود کش حملے کی تحقیقات مکمل کر کے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی جبکہ ایس ایچ او انسداد دہشت گردی پولیس اسٹیشن کو مقدمے کا انوسٹی گیشن آفیسر بھی مقرر کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
دوسری جانب گلشن اقبال دھماکے میں ہلاک شدگان کی تدفین کا سلسلہ بھی جاری ہے جن میں بچوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز پاکستانی فوج کے 40 رکنی دستے اور سی ٹی ڈی کے ارکان نے پیر کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اہم شواہد اکٹھے کیے جبکہ عینی شاہدین کے تاثرات بھی قلمبند کیے تھے۔
اس سے قبل تھانہ اقبال ٹاؤن کے ایس ایچ او کے مطابق محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور شواہد اکھٹے کیے۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے لاہور کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیے جا رہے ہیں اور اب تک 30 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ روز سانحہ گلشن اقبال کے سوگ میں لاہور شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز اور تفریحی مقامات بند رہے تھے۔







