مہمند ایجنسی میں حملے، نو خاصہ دار اہلکار ہلاک

حملوں کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحملوں کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے (فائل فوٹو)
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ خاصہ دار فورس کے اہلکاروں پر ہونے والے دو الگ الگ حملوں میں نو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کے دونوں واقعات بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مہمند ایجنسی کی تحصیلوں یکہ غنڈ اور پنڈیالی میں پیش آئے۔

انھوں نے کہا کہ پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل پر تعینات خاصہ دار فورس کے دو اہلکاروں پر مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس میں دونوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق فائرنگ کا دوسرا واقعہ یکہ غنڈ سب ڈویژن کے علاقے کڑپہ میں رات گئے ہوا جب مسلح افراد نے خاصہ دار فورس کی ایک چیک پوسٹ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہاں ڈیوٹی پر موجود سات اہلکار مارے گئے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے اہلکاروں کی لاشیں ایجنسیہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردی گئی ہے۔

ان دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار گروپ نے قبول کر لی ہے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے اور کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سال جنوری میں خیبر ایجنسی اور پشاور سے ملحق سرحد پر قائم خاصہ دار فورس کی چوکی پر خود کش حملے میں دس افراد ہلاک ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنسال جنوری میں خیبر ایجنسی اور پشاور سے ملحق سرحد پر قائم خاصہ دار فورس کی چوکی پر خود کش حملے میں دس افراد ہلاک ہوئے تھے

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کاروائیوں کے بعد سکیورٹی کی صورت حال پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر بتائی جاتی ہے۔ تاہم سکیورٹی فورسز اور حکومتی حامی قبائلی سرداروں کو ہدف بنا کر قتل کے واقعات مسلسل ہوتے رہے ہیں۔ ان واقعات کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً کالعدم شد پسند تنظمیں قبول کرتی رہی ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ مہمند ایجنسی میں ایک ہی رات میں دو واقعات میں نو اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ بھی کافی عرصے کے بعد پیش آیا ہے۔

رواں سال جنوری میں قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور پشاور سے ملحق سرحد پر قائم خاصہ دار فورس کی چوکی پر خود کش حملے میں اسسٹنٹ لائن افسر اور قبائلی صحافی سمیت دس افراد ہلاک 23 زخمی ہوئے تھے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے شب قدر میں پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے حیوانات کے ایک شفا خانے کو دھماکہ خیر مواد سے اڑا دیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ تھانہ سرو کلی کی حدود میں حبیب اللہ کلی میں پیش آیا، تاہم عمارت خالی ہونے کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔