پشاور سے متصل قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد کے مناظر
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے متصل قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحیات آباد کے ڈی ایس پی عتیق شاہ کے مطابق یہ دھماکہ پشاور اور خیبر ایجنسی کی سرحدی حد پر واقع خاصہ داروں کی جمرود چیک پوسٹ کے قریب پر ہوا۔
،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے یہی لگ رہا ہے کہ دھماکہ خودکش تھا۔
،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق نوجوان حملہ آور نے چیک پوسٹ کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑایا جس سے وہاں موجود خاصہ داروں کے لائن افسر نواب شاہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
،تصویر کا کیپشنپولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی شہاب علی شاہ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں نواب خان کے علاوہ مزید سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 15 سے زیادہ افراد زخمی جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک ہے۔
،تصویر کا کیپشنحیات آباد کے ڈی ایس پی عتیق شاہ کے مطابق ماضی میں بھی نواب خان کو دھمکیاں ملتی رہی تھیں اور بظاہر اس حملے کا ہدف بھی وہی تھے۔
،تصویر کا کیپشندھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپشاور میں حال ہی میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتحقیقاتی اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔