’نیب کو خانہ پری کے لیے کارروائی نہیں کرنے دیں گے‘

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کو محض ملک کے دوسرے صوبوں میں ہونے والے ایکشن کے حوالے سے توازن پیدا کرنے کے لیے پنجاب میں کارروائیاں نہیں کرنے دی جائیں گی۔
بدھ کو لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ نیب ایک قومی ادارہ ہے جسے ذمے داری سے اپنا کام کرنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ 90 دن تک لوگوں کو حراست میں رکھ کر اگر یہ کہا جائے کہ ان کے خلاف ثبوت نہیں ملے تو یہ مناسب نہیں۔
’نیب کا قانون کہتا ہے کہ لوگوں کو حراست میں لینے سے پہلے مناسب تحقیق کرنا ضروری ہے۔ ابتدائی انکوائری مکمل کرنے کے بعد ہی نیب کو مقدمات درج کروانے چاہییں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کسی سیاستدان کے خلاف کی جانے والی کاروائی پر جو تنقید ہور ہی ہے اس تنقید کو بیلنس کرنے یا سب سائیڈ کرنے کے لیے اگر دوسری طرف سے گنتی پوری کرنے والی بات کی جائے تو یہ کوئی انصاف نہیں ہے۔ یہ کوئی نیب نہیں ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن کے حالیہ دور حکومت میں کرپشن کا کوئی سیکنڈل سامنے نہیں آیا اور تمام منصوبے شفاف انداز میں مکمل کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب سے متعلق وزیراعظم نوازشریف کے بیان کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
’ان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ کسی کے خلاف بھی انتقامی کاروائی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر وزیراعظم کسی ادارے کو اپنی کارگردگی بہتر بنانے کے لیے نہیں کہیں گے تو کون یہ فرض ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے جو کہا وہ نیب کی بہتری کے لیے کہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم نے گذشتہ روز بہاولپور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نیب پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ نیب کی جانب سے غلط مقدمات میں لوگوں کو ملوث کرنا، ان کی عزتیں اچھالنا، انھیں پکڑنا اور کام نہ کرنے دینا مناسب نہیں۔
پنجاب اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنما اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن اسمبلی نے وزیرِ اعظم کے اس بیان کے خلاف اسمبلی میں قرارداد بھی جمع کروائی ہے جس میں ان سے یہ بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPM Office
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ نیب پنجاب میں جتنا متحرک ہو اسے خوش آمدید کہیں گے۔
’پہلے میٹرو اور اب اورنج لائن پر بہت تنقید ہورہی ہے۔ نندی پور پاور پراجیکٹ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جاتا رہا ہے لیکن پنجاب کے کسی منصوبے میں ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی۔ اگر منصوبے میں انجینئرنگ کی خامیاں ہیں تو یہ شہباز شریف کا قصور نہیں۔‘
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اپوزیشن کی جماعت ہے اور اسے حکومت پر تنقید کا پورا حق ہے اس کا برا نہیں منانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے اپنے دورحکومت میں بھی ان کے خلاف کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کی بدعنوانیوں کو مسلم لیگ ن سامنے نہیں لائی۔
’پیپلزپارٹی کے جو سیاستدان پچھلے پانچ سال برسراقتدار رہے ہیں ان کے بارے میں کرپشن کی جو غضب کہانیاں چلتی رہیں ہیں۔ کیا وہ ہم سامنے لائے ہیں؟ ہم نے تو کبھی ان کی کرپشن کی غضب کہانی کے ثبوت سامنے نہیں لائے۔ یہ تو اس وقت بھی زرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہیں ہیں جب وہ برسراقتدار تھے۔ اب اگر اس کی انکوائری ہورہی ہے تو یہ تو پہلے کی بات ہے۔‘







