خیبرپختونخوا میں احتساب ایکٹ میں ترامیم پر تحفظات

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انسداد بدعنوانی کے ادارے احتساب کمیشن کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد حامد خان نے صوبائی کابینہ کی جانب سے احتساب ایکٹ میں ترامیم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ ترامیم نافذ ہونے کی صورت میں صوبے میں جاری احتساب کا عمل انتظامیہ کے تابع ہوجائے گا۔
احتساب ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر اپنے تحفظات کا اظہار احتساب کمیشن کے سربراہ نے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے نام ایک خط میں کیا ہے جس کی نقل بی بی سی نے حاصل کی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد خان نے چار فروری کو تحریر کیے گئے اس خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی کابینہ نے احتساب ایکٹ میں جن ترامیم کی منظوری دی ہے وہ آزادانہ اور شفاف احتسابی عمل کے بنیادی اصولوں کی نفی کرتی ہیں۔
انھوں نے اس خط کی ایک نقل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بھی ارسال کی ہے۔
صوبائی کابینہ نے جمعرات کے روز اپنے خصوصی اجلاس میں احتساب ایکٹ 2014 میں بعض ترامیم کی منظوری دی تھی۔ جن میں سرکاری اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتاری سے قبل چیف سیکریٹری اور ارکان پارلیمان کی گرفتاری سے قبل قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین کو پیشگی اطلاع لازمی قرار دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حامد خان نے کہا ہے کہ ان ترامیم سے احتساب کا عمل انتظامیہ کے تابع ہوجائے گا اور اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی۔
’ایک ایسے وقت میں جب احتساب کمیشن بعض سینیئر وزرا، مشیروں اور اعلیٰ افسران کے خلاف بدعنوانی میں ملوث ہونے کی تحقیق اور تفتیش میں مصروف ہے ایسے میں احتساب کمیشن کے ڈائرئکٹر جنرل کے اختیارات کو کم کرنے کی کوشش تحریک انصاف کی حکومت کی بدعنوانی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد خان نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے مطالبہ کیا ہے کہ احتساب کے عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کی خاطر کابینہ کی منظور کردہ ترامیم کو واپس لیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد خان کی بطور چیئرمین احتساب کمیشن تعیناتی کا اعلان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خود کیا تھا اور اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔







