پاک بھارت سیکریٹری خارجہ کی ملاقات پر فیصلہ آج متوقع
پاکستان نے پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ بھارت کی جانب سے جمعے کے لیے طے شدہ سیکریٹری خارجہ مذاکرات پر حتمی فیصلہ آج متوقع ہے۔
دہلی میں بی بی سی ہندی کے نامہ نگار کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیرِ خارجہ سشما سوراج سے بدھ کی رات ملاقات کی اور پاکستان میں جیشِ محمد کے خلاف ہونے والی کارروائی کا جائزہ لیا۔ تاہم پاک بھارت سیکریٹری خارجہ کی جمعے کو ہونے والی ملاقات کے حوالے سے باضابطہ اعلان آج (جمعرات) قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال کے پیرس سے لوٹنے تک موخر کر دیا گیا ہے۔
بھارت کو یہ فیصلہ لینا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سیکرٹری خارجہ سطح کی بات چیت طے وقت پر ہوگی یا نہیں۔
دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹریوں کی بات چیت کے لیے 15 جنوری کی تاریخ طے پائی گئی تھی۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان مجوزہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں اس کا فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے چند ہی گھنٹوں بعد پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے میں پاکستانی عناصر کے ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک چھ رکنی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔
اس کمیٹی میں پولیس کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس اور پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے کے اعلیٰ اہلکار بھی شامل ہیں۔
وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا گیا تھا کہ پٹھان کوٹ پر حملے کے پس منظر میں ہونے والی تحقیقات کے سلسلے میں جیش محمد نامی شدت پسند تنظیم کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور کئی دفاتر کو سیل کردیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ادھر پاکستان کے مقامی میڈیا میں یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔ جبکہ پریس ٹرسٹ انڈیا کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے گذشتہ روز صحافیوں سے گفتگو میں بتایا تھا کہ پاکستانی حکومت نے مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔
رابطہ کرنے پر بہاولپور کےمتعلقہ تھانے میں ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری اور ان کے دفاتر سیل کیے جانے سے متعلق کسی بھی کارروائی سے لاعلم ہیں۔







