’جتنی دیر میں خون کے ٹیسٹ ہوئے، بچہ مرگیا‘

- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، تھر پار کر
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع تھر پارکر میں پچھلے دو برس کے دوران غذائی قلت کے باعث درجنوں بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔
ضلع کے ہیڈ کوارٹر مٹھی کےسول ہسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2016 کے آغاز سے لے کر اب تک 17 بچے ہلاک ہوئے اور یہ سب ہلاکتیں ضلع ہیڈکوارٹر مٹھی کے سول ہسپتال سے رپورٹ ہوئیں۔
سول ہسپتال مٹھی میں بچوں کے ڈاکٹر صاحب ڈینو بتاتے ہیں ’وقت سے پہلے پیدا ہونے اور کم وزن والے بچے ہسپتال لائے گئے۔ اس سال سردی بہت زیادہ تھی۔ درجۂ حرارت 5 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا جو یہاں کے لیے غیر معمولی بات ہے۔ اس کے ساتھ جب گھر میں پیدا ہونے والے وہ بچے جو دودھ بھی نہیں پی رہے ہوں انھیں دو تین روز تک گھر میں رکھ کے اُس وقت ہسپتال لایا جاتا ہے جب وہ بالکل مرنے والا ہوتے ہیں۔‘
سول سپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اقبال بھرگڑی نے بتایا ’ہسپتال کے شعبۂ اطفال میں نرسری اور غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج کا تمام ضروری سامان دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ مشینوں کی دیکھ بھال کے لیے تکنیکی عملے سمیت چار ڈاکٹرز موجود ہیں۔‘
لیکن اس کے باوجود اسی ہسپتال سے اتنی بڑی تعداد میں نومولود بچوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
اس پر اقبال بھرگڑی کا کہنا تھا ’ زیادہ تر بچے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں جنھیں مختلف تحصلیوں سے بھیجا گیا ہوتا ہے۔ ایک تو وہ قبل از وقت پیدائش یا کم وزن والے بچے ہوتے ہیں دوسرے فاصلے کی وجہ سے انھیں سول ہسپتال تک پہنچنے میں دیر لگ جاتی ہے۔ یہاں پہنچتے ہیں توان کی حالت بگڑ چکی ہوتی ہے۔ زیادہ تر بچے کومے میں ہوتے ہیں یا ان کی سانس بند ہو چکی ہوتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

مٹھی شہر کے قریبی گاؤں سانیاسرکی رہائشی 35 سالہ مگھو کا چار روز کا بیٹا بھی نو جنوری کو ہی مٹھی کے سول ہسپتال میں ہلاک ہوا تھا۔ وہ اس سے پہلےسات بچوں کو جنم دے چکی ہیں۔
مگھو نے بتایا ’بچے کی پیدائش گھر میں دائی کے ہاتھوں ہی ہوئی تھی۔ تیسرے دن ہی بچے کو بخار کے ساتھ ناک سے خون آنے لگا تو پہلے پرائیویٹ ہسپتال گئیں جہاں سے انھیں سول ہسپتال بھیج دیا گیا۔ جتنی دیر میں ڈاکٹروں نے خون کے ٹیسٹ کیے میرا بچہ ختم ہوگیا۔‘
تھر پارکر کی 13 لاکھ سے زیادہ آبادی کے لیے چند بنیادی صحت کے مراکز کے علاوہ صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے پی پی ایچ آئی کے زیر اتنظام 31 بنیادی صحت کے مراکزکام کرتے ہیں۔ بچوں کی حالیہ اموات کا ذمہ دار ان بنیادی صحت کے مراکز میں سے کئی کے غیر فعال ہونے کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
مٹھی شہر کےقریب ہی ایک گاؤں آمریو کے بنیادی صحت کے ایک مرکز میں تمام سہولتیں دستیاب تھیں یعنی ڈاکٹرز، عملہ، ضروری مشینری اور ادویات۔ اس کے علاوہ وہاں نارمل ڈیلیوری کے لیے بھی تمام ضروری چیزیں موجود تھیں۔

وہاں موجود ڈاکٹر سرن کمار نے بتایا ’یہ ایک بنیادی صحت کا مرکز دس کلومیٹر کے دائرے میں موجود 11 ہزار کی آبادی کو طبی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔‘
ان کے مطابق تھر میں نومولود بچوں کی ہلاکت کی وجہ آج بھی دائیوں اور عطائی ڈاکٹروں پر انحصار ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے مطابق صوبہ سندھ کے 23 اضلاع میں سب سے کم ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس ضلع تھر پارکر کا ہے۔
تھر میں ہر سال ہی کبھی غدائی قلت اور کبھی شدید سردی سے درجنوں بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ضلع میں موجود صحت کے مراکز عموماً ایسی صورت حال سے نمٹنے میں بے بس نظر آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت کوئی ایسی جامع پالیسی ترتیب دے سکے گی جس سے اس صورت حال پر مکمل قابو پایا جا سکے یا پھر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا؟







