’پاکستان میں فوجی انصاف پر تشویش کا اظہار‘

پشاور میں سکول پر حملے کے بعد وزیراعظم نے سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپشاور میں سکول پر حملے کے بعد وزیراعظم نے سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان میں فوجی عدالتوں کے قیام کا ایک برس گزرنے پر انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ’فوجی انصاف‘ کے نظام میں منصفانہ انداز میں مقدمہ چلانے کے حق کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔

بدھ کو انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کے ایشیا کے ڈائریکٹر سیم ظریف کے مطابق فوجی عدالتوں میں چلنے والی مقدمات کی وجہ حقوق انسانی کے گروپوں اور قانونی برادری کے ان خدشات پر دوبارہ یقین ہوا ہے کہ پاکستان میں فوجی عدالتوں کی کارروائی کو خفیہ، غیر شفاف رکھا جاتا ہے اور پاکستان کی منصفانہ عدالتی کارروائی کی اندرونی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے لیے باعث تضحیک ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت دہشت گردی کرنے والے شدت پسند گروہوں سے حقیقی خطرہ ہے اور حکومت اپنے شہریوں کو ایسے واقعات بچانے کی ذمہ داری بھی ہے لیکن عدالتی نظام میں فوج کو شامل کرنے سے انصاف حاصل نہیں ہو گا اور اس سے دہشت گردی نہیں رکے گی۔

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کی ایک برس کی کاررکردگی کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدمات میں دفاع کرنے والوں کے منصفانہ عدالتی کارروائی کے حق کا احترام نہیں کیا گیا۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق فوجی عدالتیں قومی اور بین الاقوامی معیار سے کافی نیچے ہیں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ فوجی عدالتوں میں جن مشتبہ افراد کے مقدمات چلے ہیں انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان سے بدسلوکی کی گئی اور فوجی حکام کی جانب سے ان افراد کے اہلخانہ کو ارکان کو خوفزدہ اور دھمکایا گیا۔

فوج کی جانب سے اہلخانہ کے افراد اور سول سوسائٹی کے مانیٹرز کو حراستی مراکز تک رسائی نہ دینے سے ایسے خدشات میں اضافہ ہوتا ہے۔

پشاور میں سکول پر حملے کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنپشاور میں سکول پر حملے کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا

کمیشن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ’فوجی انصاف‘ کے نظام کو ختم کر دے اور انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین، پالیسیوں اور لائحہ عمل کا جامع جائزہ لے تاکہ اس کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ پاکستان کی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن نے انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کے موقف سے اتفاق کیا ہے۔

کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم نے آغاز سے ہی اِس کی مخالفت کی تھی، اِس عمل میں شفافیت نہیں ہے، خاندان والوں کو اخبار سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے خاندان کے فرد کو سزا ہوئی ہے۔ اِس میں صفائی، کس بنیاد پر سزا دی جا رہی ہے اور دیگر معاملات میں ابہام ہے۔

زہرہ یوسف کے مطابق انھیں بھی اُس وقت حیرت ہوئی تھی جب سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے خلاف درخواست کی سماعت میں فوجی عدالتوں کے قیام کو برقرار رکھا، جب کہ وہ پہلے دو بار اِس کو کالعدم قرار دے چکے ہیں۔