’مجھے لگتا ہے یہ درد مجھے مار دے گا‘

ضامر بھٹی کی عمر سات سال تھی اور وہ اپنے والدین کا اکلوتا بچہ تھا
،تصویر کا کیپشنضامر بھٹی کی عمر سات سال تھی اور وہ اپنے والدین کا اکلوتا بچہ تھا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’بابا میرے سر میں بہت درد ہوتا ہے ، مجھے لگتا ہے یہ درد مجھے مار دے گا۔‘ یہ الفاظ تھے ننھے ضامر بھٹی کے جو دو سال اور دو ماہ تک ان زخموں کے خلاف جنگ لڑتا رہا جو اسے ایک دھماکے سے ملے تھے۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں دو سال پہلے چرچ پر حملے کا ایک معصوم زخمی بچہ زندگی اور موت کی طویل کشمکش کے بعد گذشتہ روز دم توڑ گیا۔

ضامر بھٹی کی عمر سات سال تھی اور وہ اپنے والدین کا اکلوتا بچہ تھا۔ ضامر بھٹی کی ٹانگ اور سر پر زخم آئے تھے، ٹانگ کے زخم تو بھر گئے تھے لیکن سر میں لگنے والی چوٹ جان لیوا ثابت ہوئی۔

ضامر کے والد عامر بھٹی کا کہنا تھا کہ معصوم ضامر بھٹی نے یہ وقت بہت تکلیف میں گزارا۔ ’سر میں شدید درد کی وجہ سے وہ کراہتا رہتا تھا لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔‘

عامر بھٹی نے بتایا کہ ضامر بھٹی سخت تکلیف میں کہتا تھا کہ کوئی ہتھوڑی لے آئیں اور سر پر ماریں تاکہ جو چیز ہے وہ ٹوٹ جائے۔

پشاور چرچ پر خود کش حملہ بائیس ستمبر سنہ 2013 میں اتوار کے روز اس وقت ہوا تھا جب لوگ چرچ میں عبادت کے لیے آئے تھے۔

ضامر بھٹی کی ہلاکت کے بعد چرچ پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 100 ہو گئی ہے۔ اس حملے میں 120 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

عمار بھٹی نے بتایا کہ جس وقت چرچ پر حملہ ہوا تھا اس وقت ان کا بیٹا نرسری جماعت میں تھا اور اب وہ پہلی جماعت میں پڑھ رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بچے کا علاج ہر جگہ پر کرایا، لاہور بھی لے گئے، پشاور کے تمام ڈاکٹروں سے رابطے بھی کیے لیکن ضامر جانبر نہ ہو سکا۔

ضامر بھٹی کی ہلاکت کے بعد چرچ پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 100 ہو گئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنضامر بھٹی کی ہلاکت کے بعد چرچ پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 100 ہو گئی ہے

عامر بھٹی کے بھائی جیری سیمسن نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے زخمیوں کے لیے دو لاکھ روپے انھیں دیے تھے لیکن وفاقی حکومت اور سندھ اور پنجاب کے وزراء اعلی کی اعلان کردہ رقوم انھیں نہیں ملیں اور بچے کے علاج پر باقی جو خرچے ہوئے ہیں وہ انھوں نے لوگوں سے قرض لے کر کیے۔

اقلیتی آبادی سے تعلق رکھنے والے کونسلر مورس نے بتایا کہ اس وقت بھی بڑی تعداد میں چرچ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس سال جنوری میں ایک 23 سالہ لڑکی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی۔ فرح جاوید زخمی ہونے کے بعد سولہ ماہ تک زندہ رہی۔

پشاور میں دیگر بم دھماکوں اور حملوں کے زخمیوں میں ایک بڑی تعداد اب معذور ہے جبکہ بیشتر کو مختلف عارضے لاحق ہیں۔ آرمی پبلک سکول پر حملے سے پہلے شاہین بازار، قصہ خوانی بازار، خیبر بازار، بڈھ ییر اور خیبر پر بڑے حملے ہوئے تھے جس میں زخمی ہونے والے افراد اب بھی حکومتی توجہ چاہتے ہیں۔

کونسلر مورس نے بتایا کہ اس وقت بھی بڑی تعداد میں چرچ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکونسلر مورس نے بتایا کہ اس وقت بھی بڑی تعداد میں چرچ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں