جنرل راحیل کا دورۂ امریکہ جمہوری حکومت کے لیے تشویش کا باعث؟

جنرل راحیل شریف کی امریکی حکام سے بات چیت کا محور ممکنہ طور پر افغانستان ہو گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنرل راحیل شریف کی امریکی حکام سے بات چیت کا محور ممکنہ طور پر افغانستان ہو گا
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق جنرل راحیل شریف چھ دن کے دورے پر اتوار کو امریکہ جا رہے ہیں جہاں امریکی حکام سے سکیورٹی کے وسیع تر معاملات پر بات کی جائے گی۔

<link type="page"><caption> ’دو شریفوں میں گڑبڑ ہوئی تو سویلین شریف کے ساتھ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/11/151111_achakzai_ispr_statement_reaction_rh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’راحیل شریف کا موڈ اچھا رکھنے کی ڈیوٹی‘</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/11/151111_corps_commander_meet_analysis_rh" platform="highweb"/></link>

اس سال ان کا یہ امریکہ کا دوسرا دورہ ہو گا جس کا ایجنڈا فی الوقت واضح نہیں ہے۔ فوجی ترجمان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغامات میں اس بارے میں محدود معلومات جاری کی ہیں۔

ترجمان کے مطابق جنرل شریف امریکہ کے فوجی حکام اور سیاسی قیادت سے ملیں گے اور ’خطے میں ابھرتی ہوئی نئی حقیقتوں پر پاکستان کے موقف کو اجاگر کریں گے۔‘

جنرل شریف کے اس دورے کے دو اہم سیاسی پہلو بھی ہیں۔ ایک تو اطلاع یہ ہے کہ ان کا یہ دورہ امریکہ کی دعوت پر نہیں بلکہ ان کی اپنی درخواست پر ہو رہا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ دورہ وزیر اعظم نواز شریف کے دورۂ امریکہ کے کم و بیش تین ہفتے بعد ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم شریف نے 20 سے 23 اکتوبر تک امریکہ کا دورہ کیا تھا اور صدر اوباما سے ان کی ملاقات میں پاک بھارت تعلقات، مسئلہ کشمیر، افغانستان اور دہشت گردی اور سکیورٹی کے دیگر امور سمیت دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری سمیت کئی اہم موضوعات کے علاوہ جمہوری اصولوں کی حمایت پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔

ملاقات کے بعد مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ’صدر اوباما اور وزیر اعظم نواز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جمہوریت ہی امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کا کلیدی ستون ہے۔‘

امریکہ کی بھی سب سے بڑی دلچسپی یہ ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحت کے لیے کوئی کردار ادا کرے

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنامریکہ کی بھی سب سے بڑی دلچسپی یہ ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحت کے لیے کوئی کردار ادا کرے

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی امریکی حکام سے بات چیت کا محور ممکنہ طور پر افغانستان ہو گا، ’کیونکہ امریکہ کی بھی سب سے بڑی دلچسپی یہ ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحت کے لیے کوئی کردار ادا کرے۔ اس کے علاوہ پاکستان پر ایک دباؤ پھر سے آیا ہے کہ وہ حقانی گروپ سمیت طالبان کے تمام باغی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ ’چونکہ یہ دورہ آرمی چیف کی خواہش پر ہو رہا ہے اس لیے وہ چاہیں گے کہ پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں میں جو کارروائیاں کی ہیں ان سے امریکی حکام کو آگاہ کیا جائے کہ کیا کامیابیاں حاصل ہوئیں اور آئندہ کا کیا ارادہ ہے۔‘

زاہد حسین کے مطابق امکان ہے کہ حسب روایت امریکہ میں جنرل شریف کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ’پاکستان اور امریکہ کے تعلقات زیادہ تر سکیورٹی کے مسائل سے جڑے رہے ہیں تو اس لحاظ سے امریکی اسے اہمیت تو دیتے ہیں کیونکہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ فوج کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں تاکہ ان پر عمل بھی ہو سکے۔‘

کئی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جنرل شریف کا دورہ امریکہ جمہوری حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتا ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ’اگر سیاسی معاملات پر آرمی چیف بات کریں گے تو اس سے مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت کو نقصان ہو گا تو یہ واقعی امریکہ کو بھی محتاط رہنا چاہیے اور خاص طور پر پاکستانی فوج کو محتاط طریقے سے آگے بڑھنا چاہیے۔‘