دو شریفوں میں گڑبڑ ہوئی تو سویلین شریف کے ساتھ: اچکزئی

پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس وقت ایک پیج پر ہوں گے جب آئین بالادست ہوگا۔

انھوں نے یہ بات بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’اگر دونوں کے درمیان کچھ گڑ بڑ ہوئی تو میں سویلین شریف کے ساتھ ہوں گے‘۔

’ہماری جماعت کسی بھی ایسی خارجہ پارلیسی کی حمایت نہیں کرے گی جو ملک میں نہ بنائی گئی ہو‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’ہماری جماعت کسی بھی ایسی خارجہ پارلیسی کی حمایت نہیں کرے گی جو ملک میں نہ بنائی گئی ہو‘

منگل کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کے اجلاس کے بعد آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے جاری آپریشن کے نتائج حاصل کرنے اور ملک میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ حکومت انتظامی امور کو بہتر کرے۔

اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود حان اچکزئی کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر کانفرنس کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جو بیان جاری کیا گیا ہے وہ آئین کی روح کے منافی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بیان کے بارے میں سپریم کورٹ سے تشریح کروائی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ بعض لوگ اس معاملے پر جان بوجھ کر بیان نہیں دینا چاہیے یا پھر’ہم نے بےایمانی سے حلف اُٹھایا ہے‘۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگی ماحول ہے۔ ’عراق اور لیبیا ختم ہوگیا ہے جبکہ ادھر داعش کی باتیں ہو رہی ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت کسی بھی ایسی خارجہ پارلیسی کی حمایت نہیں کرے گی جو یہاں یعنی پارلیمنٹ میں نہ بنائی گئی ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ ان حالات میں پارلیمنٹ کا مشرکہ اجلاس بلا کر اعتماد میں لیا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شفقت محمود نے نے کہا کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کیا گیا یہ بیان حکومت کی نااہلی کی طرف اشارہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت شدت پسندی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں ایوان کو آگاہ کرے اور اسے اعتماد میں لے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ فوجی اور سویلین عدالتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ورنہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں اس کے منفی اثرات پیدا ہوں گے۔