بےنظیر قتل کیس: مشرف کی سیگل کے خلاف درخواست منظور

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے ملزم اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے اس مقدمے کے اہم گواہ امریکی شہری مارک سیگل کے بیان کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی۔
اس مقدمے کے سرکاری وکیل کے مطابق متعقلہ عدالت تین ماہ اس قسم کی درخواست پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔
<link type="page"><caption> ’بینظیر بھٹو کی سکیورٹی بہتر تعلقات سے مشروط کی گئی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151001_benazir_murder_case_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ایوب مارتھ نے سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کی تو اس مقدمے کے ملزم پرویز مشرف کے وکیل فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔
اُنھوں نے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ امریکی شہری نے ویڈیو لنک کے ذریعے جو بیان ریکارڈ کروایا ہے اس کی قانونِ شہادت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ مارک سیگل نے اس اہم مقدمے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک کا لکھا ہوا بیان پڑھا۔
اُنھوں نے کہا کہ جس وقت مارک سیگل اپنا ریکارڈ کروا رہے تھے اس وقت ان کے پاس کوئی بھی جوڈیشل افسر موجود نہیں تھا اس لیے قانونی اعتبار سے اس بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
اس مقدمے کے سرکاری وکیل کے مطابق مارک سیگل نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ بےنظیر بھٹو نے اُنھیں بتایا تھا کہ اس وقت کے فوجی صدر مشرف نے ٹیلی فون کر کے انھیں (بےنظیر بھٹو) کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے پہلے انسداد دہشت گردی کی عدالت مارک سیگل کے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے سے متعلق ایک درخواست تین ماہ پہلے ہی مسترد کر چکی ہے جس کے بعد مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ درخواست بھی ملزم پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔ اس مقدمے کے سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت نے اُنھیں سنے بغیر ہی اس مقدمے کی سماعت 11 نومبر تک ملتوی کر دی۔
سابق فوجی صدر کے وکلا نے بدھ کے روز مارک سیگل کے بیان پر ویڈیو لنک کے ذریعے جرح کرنی تھی اور اس کے لیے راولپنڈی کے کمشنر آفس میں عارضی طور پر عدالت بھی قائم کی گئی تھی۔







