یوحنا آباد حملے کے 20 ملزمان پر فردِ جرم عائد

 یوحنا آباد میں بیک وقت دو چرچوں پر خودکش حملوں میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن یوحنا آباد میں بیک وقت دو چرچوں پر خودکش حملوں میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے یوحنا آباد کے چرچ حملوں کے بعد مشتعل ہجوم کی جانب سے دو افراد کو زندہ جلائے جانے کے مقدمے میں 20 ملزموں پر فرد جرم عائد کردی ہے۔

لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد قاسم نے مقدمے کی سماعت کی۔

عدالت کے روبرو تھانہ نشتر کالونی حکام نے 20 ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا تھا۔

حتمی چالان میں کہا گیا تھا کہ <link type="page"><caption> 20 ملزموں نے یوحنا آباد چرچ دھماکوں کے بعد دو </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/03/150315_lahore_church_blast_hk" platform="highweb"/></link>معصوم شہریوں بابر نعمان اور محمد نعیم کو تشدد کرکے جلادیا تھا۔

حتمی چالان میں پولیس کی جانب سے 20 ملزمان کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

دوران سماعت تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ تاہم عدالت نے ان پر فرد جرم عائد کرکے آئندہ سماعت پر گواہان کو طلب کرلیا ہے۔

حتمی چالان میں کہا گیا تھا کہ 20 ملزموں نے یوحنا آباد چرچ دھماکوں کے بعد دو معصوم شہریوں بابر نعمان اور محمد نعیم کو تشدد کرکے جلادیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحتمی چالان میں کہا گیا تھا کہ 20 ملزموں نے یوحنا آباد چرچ دھماکوں کے بعد دو معصوم شہریوں بابر نعمان اور محمد نعیم کو تشدد کرکے جلادیا تھا

رواں سال 15 مارچ کو لاہور کی عیسائی آبادی کی قیام گاہ یوحنا آباد میں اتوار کے روز بیک وقت <link type="page"><caption> دو چرچوں پر خودکش حملے کیے گئے تھے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/03/150315_lahore_church_blast_hk" platform="highweb"/></link>۔ جس میں 15 افراد ہلاک جبکہ 70 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

دھماکوں کے فوراً بعد مشتعل افراد نے دو افراد کو حملہ آور ہونے کے شبہے میں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد آگ لگا دی تھی۔

دھماکوں اور دوافراد کے زندہ جلائے جانے کے بعد یوحنا آباد میں کئی دن تک صورتحال کشیدہ رہی اور شہر میں مذہبی فسادات کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔