مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کے حملے میں ایک اہلکار ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں لیویز چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کو مہمند ایجنسی کی تحصیل حلیم زئی کے علاقے غریب خاور میں لیویز چیک پوسٹ پر حملہ ہوا ہے۔

لیویز اہلکاروں کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کی گئی تاہم اس کی تفصیلات موصول نہیں ہوئیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان جماعت الحریر کے ترجمان احسان اللہ احسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی کے پاک افغان سرحدی علاقے میں تشدد کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں تعینات سکیورٹی فورسز پر افغان علاقوں سے حملے ہوتے رہے ہیں تاہم افغان حکومت ان حملوں سے لاعلمی کا اظہار کرتی رہی ہے۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ مہمند ایجنسی میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بیشتر شدت پسند افغانستان کے سرحدی علاقوں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں جہاں سے وہ اکثر اوقات داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

اس سے پہلے گذشتہ روز منگل کو شمالی وزیرستان میں انگور اڈہ کے علاقے میں ایف چیک پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سرحد پار افغان علاقے سے شمالی وزیرستان کی حدود میں ہوا تھا۔