خیبر ایجنسی کے لیے خصوصی ٹریفک پولیس

 یہ اہلکار بنیادی طور پر لیویز اہلکار ہیں لیکن انھیں ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کی تربیت پشاور میں فراہم کی گئی ہے
،تصویر کا کیپشن یہ اہلکار بنیادی طور پر لیویز اہلکار ہیں لیکن انھیں ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کی تربیت پشاور میں فراہم کی گئی ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پہلی مرتبہ ٹریفک پولیس کو تعینات کیا گیا ہے لیکن اس پولیس کے پاس قبائلی علاقوں کے قانون کے تحت خلاف ورزی کرنے پر جرمانے کی سزا کا اختیار نہیں ہے اس لیے یہ اہلکار صرف انھیں تنبیہ کر سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کو پشاور کے راستے افغانستان سے ملانے والی اس شاہراہ پر اب ٹریفک پولیس کے اہلکار نظر آتے ہیں۔ کالے شلوار قمیض اور سبز رنگ کی ٹریفک پولیس سے ملتی جلتی وردی پہلے یہ اہلکار ڈرائیوروں کو اپنی لائن میں رہنے کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔

یہ اہلکار بنیادی طور پر لیویز اہلکار ہیں لیکن انھیں ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کی تربیت پشاور میں فراہم کی گئی ہے ۔

پشاور سے خیبر ایجنسی میں داخل ہوں تو یہ اہلکار اپنی ڈیوٹی پر تعینات ہوتے ہیں۔ ایک اہلکار وارث خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں بنیادی تربیت دی گئی ہے ۔

جس میں ٹریفک اشارے، گاڑی کی پارکنگ اور انھیں تیز رفتاری سے روکنے کی تربیت شامل ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مقامات پر ٹریفک بہت زیادہ ہے اور ان کے آنے کے بعد اس پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر 20 اہلکاروں کو یہ تربیت فراہم کی گئی ہے جو تحصیل جمرود تک شاہراہ پر تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد جمرود سے لنڈی کوتل اور طورخم تک انھیں تعینات کیا جائے گا اور بعد میں تحصیل باڑہ میں ان کی تعیناتی ہوگی ۔

پشاور سے خیبر ایجنسی میں داخل ہوں تو یہ اہلکار اپنی ڈیوٹی پر تعینات ہوتے ہیں
،تصویر کا کیپشنپشاور سے خیبر ایجنسی میں داخل ہوں تو یہ اہلکار اپنی ڈیوٹی پر تعینات ہوتے ہیں

پشاور سے طورخم تک کا فاصلہ تقریبا 45 کلومیٹر ہے اور اس شاہراہ کی چند ماہ پہلے مرمت کی گئی ہے ۔ اس شاہراہ پر روزانہ ایک اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں۔ افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکہ کی اتحادی افواج کو سامان کی ترسیل کرنے والی گاڑیاں بھی اس راستے سے گزرتی ہیں۔

مقامی صحافی ابراہیم شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس شاہراہ کی مرمت کے بعد اکثر گاڑیاں تیز رفتاری سے گزرتی ہیں جس وجہ سے یہاں متعدد حادثے پیش آئے ہیں جس میں ایک درجن سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے تک یہ شاہراہ کوئی زیادہ محفوظ نہیں تھی اور اس پر نیٹو کنٹینروں کے علاوہ دیگر گاڑیوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں لیکن اب یہ سڑک کافی حد تک محفوظ ہے اور راستے میں چوکیاں قائم ہیں جو ان اہلکاروں کو بھی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

قبائلی علاقوں کے قوانین میں ٹریفک کے بارے میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جس میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانے ک سزا دی جا سکے اس کے لیے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد فاٹا سیکریٹریٹ اس بارے میں حکم نامہ جاری کر سکے گا۔

پاکستان کے دیگر قبائلی علاقے جیسے باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں بھی لیویز اہلکار ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں لیکن انھیں کوئی تربیت فراہم نہیں کی گئی۔