توہین مذہب کے ملزم عیسائی نوجوان کی ضمانت منظور

پاکستان میں غیر مسلم توہینِ رسالت اور توہینِ مذہب کے مقدمات کا سامنا کرتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہnone

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں غیر مسلم توہینِ رسالت اور توہینِ مذہب کے مقدمات کا سامنا کرتے رہے ہیں
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پنجاب کے شہر سرگودھا کی مقامی عدالت نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیے گئے عیسائی نوجوان نوید جان مسیح کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔

ملزم کو 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر رہا کر دیا جائے گا۔

نوید جان مسیح کے خلاف دو ہفتے قبل توہین مذہب کے قانون 295 اے کے تحت ایف آئی آر تھانہ سیٹلائٹ ٹاون کے ایک پولیس اہلکار کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔

نوید جان مسیح کے خاندان اور وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ بے بنیاد ہے جو پولیس اہلکار نے ماہانہ رشوت سے انکار پر درج کروایا ہے۔

ایف آئی آر میں دعوی کیا گیا ہے کہ نوید جان مسیح نے اپنے گھر کے کمرے میں روحانی طریقے سے بیماریوں کے علاج کا مرکز بنا رکھا تھا جہاں وہ اپنے مریضوں کے لیے شفائیہ دعا اور تعویذ دھاگے کا کام کرتا تھا۔

مدعی کا کہنا ہے کہ نوید مسیح نے علاج کے کمرے میں ایک تلوار بھی رکھی ہوئی تھی جس پر قرآنی آیات درج تھیں اور علاج کے دوران تلوار پر کندہ قرآنی آیات کی بے حرمتی ہو رہی تھی جس سے علاقے میں کشدگی پھیلنے اور قتل و غارت کا خطرہ تھا۔

پولیس نے اس ایف آئی آر پر کارروائی کرتے ہوئے نوید جان کو آٹھ اکتوبر کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا۔

نوید جان مسیح کے وکیل اور پاکستان اقلیتی اتحاد کے سربراہ طاہر نوید چوہدری کا کہنا ہے کہ مسیحی نوجوان پر بےبنیاد مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق قرآنی آیات والی تلوار نوید جان مسیح کو ان کے ایک مسلمان مریض نے تحفے میں دی تھی جسے انھوں نے کمرے میں سجا رکھا تھا۔

طاہر چوہدری کے مطابق تلوار سے علاج کرنے اور اس کی بے حرمتی کے الزام میں کوئی صداقت نہیں اور یہ سب کچھ پولیس اہلکار نے ذاتی رنجش کی بنا پر کیا ہے۔

نوید جان مسیح پر توہین مذہب کے جس قانون کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے اس میں جرم ثابت ہونے پر 10 سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔