’پی آئی اے کا مسئلہ قیادت اور احتساب کا فقدان‘

رپورٹ کی بنیاد پی آئی اے کی سنہ 2014 کی رپورٹ پر رکھی گئی ہے جو شاید اس کا سب سے بڑا سقم ہے
،تصویر کا کیپشنرپورٹ کی بنیاد پی آئی اے کی سنہ 2014 کی رپورٹ پر رکھی گئی ہے جو شاید اس کا سب سے بڑا سقم ہے
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کیا پی آئی اے کو کارکردگی بہتر کرنے کے لیے قارون کا خزانہ چاہیے یا حکمران اسے ایک بھکاری ہی رکھنا چاہتے ہیں جو ہر سال مزید امداد کے لیے ان سے رجوع کرتا رہے؟

یہ سوالات ذہن میں لیے میں پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی کارکردگی پر ایک غیر سرکاری تنظیم کی جائزہ رپورٹ کی رونمائی کی تقریب میں پہنچا جو اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی۔

یہ جمہوریت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سلسلہ وار رپورٹوں کی ایک کڑی تھی جسے غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ نے مرتب کیا تھا اور اس کی مصنفہ سابق بیوروکریٹ نرگس سیٹھی تھیں۔

رپورٹ کی بنیاد پی آئی اے کی سنہ 2014 کی رپورٹ پر رکھی گئی ہے جو شاید اس کا سب سے بڑا سقم ہے کیونکہ اس کے بعد حالات تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں جن میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت اور پی آئی اے میں نئے طیاروں کی شمولیت ہے جس سے اس رپورٹ کی قدر بڑھ جاتی ہے۔

اس کے لیے صرف گوگل کا استعمال ہی کافی تھا جس سے رپورٹ کو مزید موثر بنایا جا سکتا تھا۔

یہ ایک روایت ہے کہ پی آئی اے کے بارے میں کوئی بھی بات ہو اس میں یادِ ماضی اور اس کے سنہرے ابواب کے قصیدوں پر زیادہ توجہ ہوتی ہے اور حقیقتِ حال پر نظر کم رکھی جاتی ہے۔ یہاں بھی یہی حال تھا کہ فلاں دور میں تو پی آئی اے ایسی تھی ویسی تھی اب تو اس کی اوقات روٹ کی بس جیسی ہے۔

ایک چیز جو اکثر اس میں صرفِ نظر کر دی جاتی ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ جس دور کی بات یہاں کی جا رہی ہے اُس دور میں گنی چنی فضائی کمپنیاں تھیں اور تیل کی قیمتیں آج کے مقابلے پر کہیں کم تھیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل تھے جو مددگار ثابت ہو رہے تھے۔

اس سیمینار میں پیپلز پارٹی کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ پینل پر تھے جن کے ابتدائی ریمارکس کے بارے میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اس میں پی آئی اے اور اس کی کارکردگی کے علاوہ ہر موضوع پر بات کی گئی تھی۔

سردار لطیف کھوسہ نج کاری کے خلاف کھُل کر بولے۔ اس پر میرے ساتھ بیٹھے ایک ایم این نے تبصرہ کیا: ’پیپلز پارٹی ابھی تک نج کاری پر کنفیوز ہے اور کیا سردار لطیف کھوسہ کو پتہ ہے کہ بےنظیر بھٹو کا نج کاری کے حوالے سے کیا کردار تھا؟‘

پی ٹی آئی کے سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے موثر تجاویز پیش کیں اور کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ فضائی کمپنی کو کاروبار کے طور پر چلایا جائے نہ کہ سرکاری ادارے کے طور پر۔

رپورٹ نرگس سیٹھی کی لکھی ہوئی ہے جو 1994 سے 2001 تک وزارتِ دفاع میں جائنٹ سیکریٹری اور 2012 میں سیکریٹری دفاع تعینات ہوئیں
،تصویر کا کیپشنرپورٹ نرگس سیٹھی کی لکھی ہوئی ہے جو 1994 سے 2001 تک وزارتِ دفاع میں جائنٹ سیکریٹری اور 2012 میں سیکریٹری دفاع تعینات ہوئیں

انھوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدوں پر قابل اور پیشہ ور افراد کی تعیناتی کی بات کی اور کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے گذشتہ کئی مہینوں سے فضائی کمپنی کو بغیر ایم ڈی کے چلایا جا رہا ہے۔

اس پر پی آئی اے کے چیئرمین ناصر جعفر نے کہا کہ ’کمپنی کے اندراور باہر تلاش کرنے کے باوجود کوئی قابل آدمی نہیں ملا اس لیے اب اشتہار دیا گیا ہے۔‘

ناصر جعفر نے کھُل کر بتایا کہ پی آئی اے تین سو ارب روپے کی مقروض ہے اور اس کے اثاثے بھی منفی ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ انھوں نے حالات بہتر کرنے کے لیے کوششیں کی ہیں جس میں سے ایک فوری اثر یہ ہے کہ پروازوں کی بروقت روانگی کی شرح 82 فیصد ہے۔

اجلاس میں موجود سول ایوی ایشن ڈویژن اور اتھارٹی کے نمائندے بھی تھے مگر انھوں نے خاموشی پر ہی اکتفا کیا۔ ہمیشہ کی طرح ہوائی اڈوں اور ہوا بازی کی پالیسی کے حوالے سے توپوں کے رُخ پی آئی اے کے چیئرمین کی جانب تھا جن کا اس سب سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔

پی آئی اے کا اپنے مسائل اور غلطیوں کا انبار ہے مگر بہت سے مختلف اداروں کی غلطیوں کا ملبا بھی اسی پر ڈال دیا جاتا ہے کیونکہ عوام سے لے کر فیصلہ سازوں تک میں پی آئی اے اور ہوا بازی کے شعبوں میں فرق کے ادراک کا شدید فقدان ہے۔

پی آئی اے کے چیف فائنینشل آفیسر نیئر حیات نے سیمینار میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہوابازی کے ضمن میں رائے عامہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اگر اس سارے سیمینار میں کوئی اہم بات تھی تو وہ یہی ہے کہ شرکا میں اکثریت کے پاس معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اور اُن کے تبصروں اور تجاویز میں طیارے کے ٹائر پھٹنے کا واقعہ، ہوٹل میں ٹھہرانے کے اخراجات اور ماضی کی حسین یادوں کے بارے میں باتیں تو بہت تھیں مگر کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے موثر اور ٹھوس تجاویز نہ ہونے کے برابر تھیں۔