کراچی سے حزب التحریر اور القاعدہ کا رکن گرفتار

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے شہر کراچی میں پولیس نے کالعدم حزب التحریر کے رکن محمد اویس اور القاعدہ برصغیر کے مبینہ رکن سعیداللہ عرف رضوان عرف چھوٹی دنیا کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مشتبہ کالعدم حزب التحریر کے رکن کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی محکمے کے ایس پی مظہر مشوانی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ محمد اویس کو بوٹ بیسن سے گرفتار کر کے اس کے قبضے سے قابل اعتراض پمفلٹ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے سے بھی وابستہ ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے این ای ڈی یونیورسٹی سے انجینیئرنگ اور آئی بی اے سے ایم بی اے کیا ہے۔
ملزم نے 2007 میں کالعدم حزب التحریر میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس کی ذمہ داری شہر کے مہنگے علاقوں ڈیفنس اور کلفٹن کی مساجد میں پمفلٹ تقسیم کرنا تھی۔
انسداد دہشت گردی پولیس کے مطابق حزب التحریر پاکستان کے آئین اور طرز حکومت کو نہیں مانتی اور خلافت کا قیام چاہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

گرفتار ملزم اویس اور اس کے ساتھی پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس کالعدم تنظیم کے لیے غیر قانونی طور پر کام کرنے کے لیے اکساتے رہے ہیں اور ان مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نوجوانوں کو ترغیب دی جاتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اویس وائبر پر رابطے میں رہتا تھا اور اس کے دیگر ساتھی ملیر، لانڈھی اور ماڈل کالونی کے رہائشی ہیں۔
دوسری جانب انسداد دہشت گردی نے ایک اور کارروائی میں القاعدہ برصغیر کے مبینہ رکن سعیداللہ عرف رضوان عرف چھوٹی دنیا کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایس ایس پی جنید شیخ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ملزم سے ایک کلاشنکوف اور دو دستی بم برآمد ہوئے ہیں، ملزم نوجوانوں کا برین واش کرنے کا ماہر ہے اور پولیس موبائلوں پر حملے میں بھی ملوث رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم بلوچستان سے سرحد عبور کرکے افغاسنتان کے علاقہ برامچہ گیا تھا جہاں اس نے جواد بھائی نامی شدت پسند سے تربیت حاصل کی تھی۔ حال ہی میں وہ وہاں سے اپنے دستے کے ساتھ واپس آیا ہے۔







