رکن سندھ اسمبلی علی نواز شاہ کی ضمانت منظور

علی نواز شاہ کے وکیل کا موقف تھا کہ مبینہ بدعنوانی کا یہ معاملہ احتساب بیورو کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا

،تصویر کا ذریعہSINDH ASSEMBLY

،تصویر کا کیپشنعلی نواز شاہ کے وکیل کا موقف تھا کہ مبینہ بدعنوانی کا یہ معاملہ احتساب بیورو کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ ہائی کورٹ نے رکن سندھ اسمبلی علی نواز شاہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ احتساب عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں انھیں نااہل قرار دیا تھا۔

احتساب عدالت نے دس ستمبر کو علی نواز شاہ کو پانچ سال قید اور ساڑھے پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ شریک جرم ہونے کے الزام میں ان کے بھانجے سید امتیاز علی شاہ اور کزن سابق وفاقی وزیر خادم علی شاہ کو قید اور جرمانہ عائد کیا تھا۔

میرپور خاص سے رکن صوبائی اسمبلی سید علی نواز پر الزام تھا کہ انھوں نے ایل بی او ڈی سیم نالے کی تعمیر کے دوران معاوضے حاصل کرنے کے لیے جعلی ب فارم بنوائے اور کچھ کھاتے داروں کے جعلی مختار نامے حاصل کیے۔

احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف تمام ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کو احتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور ملزمان کی ضمانت کی درخواست قبول کر لی اور انھیں پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

علی نواز شاہ کے وکیل کا موقف تھا کہ مبینہ بدعنوانی کا یہ معاملہ احتساب بیورو کے دائرۂ اختیار میں نہیں تھا اور اس الزام کا پس منظر سیاسی ہے۔

’عدالت نے ملزمان کے حق میں ثبوت اور شواہد کو نظر انداز کیا ہے اور غلط سزا دی ہے، لہٰذا احتساب عدالت کے فیصلے کو مسترد کیا جائے۔‘

سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد سید علی نواز شاہ کے خلاف فیصلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ یہ سزا پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان مزید فاصلے کا سبب بنی تھی۔