کامرہ بیس پر حملے کے مبینہ منصوبہ ساز کا جسمانی ریمانڈ

کامرہ پاکستان میں جنگی طیارہ سازی کا اہم ترین مرکز ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکامرہ پاکستان میں جنگی طیارہ سازی کا اہم ترین مرکز ہے
    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستانی فضائیہ کے کامرہ ایئر بیس پر حملے کے مبینہ منصوبہ ساز عمر حیات کو 14 روز کے ریمانڈ پر محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے حوالے کر دیا ہے۔

ملزم عمر حیات کا تعلق تحریکِ امارات اسلامیہ افغانستان نامی تنظیم سے ہے اور اُس پر قریباً آٹھ برس قبل ضلع اٹک میں واقع کامرہ کے فضائی اڈے پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

پولیس نے ملزم کو دو روز قبل ہی کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سے گرفتار کیا تھا اور اسے سنیچر کو کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیاگیا۔

مختصر سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو چودہ روز کے ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا۔

محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے سینیئر سپریٹینڈنٹ پولیس جنید احمد شیخ نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ گرفتار کیا جانے والے مشتبہ ملزم عمر حیات کو لوگوں کی برین واشنگ کر کے انھیں خودکش بمبار بننے پر تیار کرنے سمیت خودکش جیکٹیں تیار کرنے میں مہارت حاصل ہے۔

ایس ایس پی جنید احمد نے مزید بتایا کہ ’عمر حیات عیدالاضحی کے دوران کراچی کی عیدگاہوں سمیت شہر میں قائم فوجی تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا تھا۔‘

پاکستانی فضائیہ کا یہ اڈہ دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا ہدف رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فضائیہ کا یہ اڈہ دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا ہدف رہا ہے

واضح رہے کہ 10 دسمبر 2007 کو پاکستان میں جنگی جہاز سازی کے مرکز کامرہ میں واقع ادارے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کے دروازے کے قریب پاکستانی فضائیہ کی بس پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اُس کے چند ہفتے بعد 18 جنوری 2008 کو کامرہ ایئر بیس پر دو راکٹ بھی فائر کیے گئے لیکن اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستانی فضائیہ کا یہ اڈہ ان حملوں کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں کا ہدف رہا ہے اور سنہ 2012 میں یہاں مسلح دہشتگردوں کے حملے اور جوابی کارروائی میں نو خودکش حملہ آور مارے گئے تھے۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت نے حال ہی میں گرفتار کیے گئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے چار مبینہ ایجنٹوں کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کر دی ہے۔

ان ملزمان کو بھی محکمہ انسداد دہشت گردی نے کراچی کے علاقے کورنگی سے گرفتار کیا تھا۔

چاروں ملزمان عبدالجبار، خالد امان، شبیر اور محسن پر شہر میں بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ سمیت مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے رہنما آفاق احمد پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔