بدعنوانی کیس: سابق وزیراعظم کی عبوری ضمانت منظور

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں وفاقی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں مبینہ بدعنوانی کے مقدمات میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے سیکریٹری کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔
پیر کو سید یوسف رضا گیلانی اپنے سیکریٹری زبیر اور بیٹے موسیٰ گیلانی کے ہمراہ وفاقی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد عظیم کے سامنے پیش ہوئے۔
یوسف گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر دائر کیے گئے ہیں، کسی بھی ایف آئی آر میں یوسف رضا گیلانی کا نام ملزم کے طور پر شامل نہیں تھا اور بعد میں عبوری چالان پیش کر کے ان کا نام شامل کیا گیا ہے۔
’ تمام مقدمات میں ایک ہی الزام ہے کہ انھوں نے 50 لاکھ روپے رشوت لیے جبکہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی براہ راست ان کے ماتحت محکمہ بھی نہیں تھا۔‘
فاروق ایچ نائک نے عدالت سے گزارش کی کہ انھیں بتایا جائے کہ ان کے موکل کے خلاف اور کتنے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔
عدالت نے ان کے دلائل سننے کے بعد عبوی ضمانت منظور کر لی اور مزید سماعت 12 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
یوسف رضا گیلانی نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں آج اخلاقی فتح حاصل ہوئی ہے، اور ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر دائر کیے جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بےنظیر بھٹو دہشت گردی کا نشانہ بنے، ان کے بیٹے اور سلمان تاثیر کے بیٹے سمیت قوم کے ہزاروں بیٹے اسی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں، ان پر حملے کیے گئے، اس لیے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ہم دہشت گردی کی حمایت کرتے رہے ہیں؟
یاد رہے کہ وفاقی برائے انسدادِ بدعنوانی عدالت کے جج محمد عظیم نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ایک ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے مقدمے میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے صدر مخدوم امین فہیم سمیت دس افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے ۔
ایف آئی اے نے یوسف رضا گیلانی، مخدوم امین فہیم سمیت دس ملزمان پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے جعلی کمپنیاں رجسٹرڈ کر کے انھیں سبسڈی دی جس سے قومی خزانے کو ایک ارب روپے کا نقصان پہنچا۔







