واشک میں ایف سی کی کارروائی میں ’دو عسکریت پسند ہلاک‘

سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع واشک میں فرنٹیئر کور نے ایک کارروائی میں دو عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 12 کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کی جانب سے سنیچر کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ کارروائی ناگ کے علاقے میں کی گئی۔

ترجمان کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایف سی نے اس علاقے میں کاروائی کی ۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں دو عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک اور گرفتار ہونے والے عسکریت پسند قومی شاہراہ کی تعمیر میں مصروف فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ دیگرجرائم میں ملوث تھے۔

ادھر ضلع کیچ میں نامعلوم مسلح افراد نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے کارکنوں پر فائرنگ کی ہے۔

کیچ میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق یہ حملہ بالگتر کے علاقے میں کیا گیا مگر اس حملے میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں ’را‘ کے ایک مبینہ ایجنٹ سمیت تین افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کوئٹہ سے گرفتار شخص بھارتی خفیہ ادارے کا ایجنٹ ہے جس کے قبضے سے دیسی ساختہ بم برآمد ہوا ہے اور وہ چھ ستمبر کو یومِ دفاع کے موقع پر تخریب کاری کرنا چاہتا تھا۔

ایک اور کارروائی میں افغانستان سے متصل قلعہ سیف اللہ کے علاقے گوال اسماعیل زئی سے بھی دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق شدت پسند تنظیم سے ہے جن سے اسلحہ و گولہ بارود بھی بر آمد کیا گیا ہے۔

آزاد ذرائع سے تاحال واشک اور قلعہ سیف اللہ میں ہلاک اور گرفتار افراد کی کسی عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔