بنوں جیل حملے کے مجرم سمیت پانچ کو سزائے موت

طاہر کو بنوں جیل توڑنے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنطاہر کو بنوں جیل توڑنے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں کام کرنے والی فوجی عدالتوں نے شدت پسندی کے مختلف واقعات میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو موت اور ایک کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شدت پسندی کے مختلف واقعات میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو موت کی سزا کی توثیق کر دی ہے جبکہ ایک شدت پسند کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سزا پانے والے تمام مجرم عام شہری ہیں اور ان کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔

ان شدت پسندوں کو فوجی عدالتوں کی طرف سے سزائیں سنائی گئی تھیں۔

یاد رہے کہ ملک میں اس وقت نو فوجی عدالتیں کام کر رہی ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مجرموں کو لاہور میں وکیل رہنما، کوئٹہ میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ، بنوں جیل پر حملہ، خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کے سکول پر حملہ اور اسی علاقے میں پولیو کی ٹیم پر حملے کے مقدمات میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں طالب علموں سمیت 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشن16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں طالب علموں سمیت 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

آئی ایس پی آر کے مطابق ایک مجرم کو عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

محمد صابر شاہ عرف اکرام اللہ

آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان کے مطابق سویلین محمد صابر شاہ عرف اکرام اللہ کو لاہور میں ایک وکیل سید ارشد محمود کو قتل کرنے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ بیان کے مطابق مجرم نے میجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ مجرم کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔

حافظ عثمان عرف عباس علی

بیان کے مطابق ایک اور سویلین حافظ عثمان عرف عباس علی کوئٹہ میں فرقہ وارانہ وارداتوں کے علاوہ پولیس اہلکاروں پر حملوں کے مقدمات میں ملوث تھے اور اُنھیں ان مقدمات میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مجرم ڈی ایس پی سمیت پولیس کے چار اہلکاروں کے قتل کے مقدمے میں بھی ملوث تھا۔ اس کے علاوہ مجرم پر دو صنعت کاروں کو قتل کرنے کا بھی الزام تھا جن میں سید طالب آغا اور سید جواد آغا شامل ہیں۔

اسد علی عرف بھائی جان

سویلین اسد علی عرف بھائی جان کو کراچی کے علاقے قائد آباد میں تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی ہے اور مجرم کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

طاہر

طاہر کو بنوں جیل توڑنے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس واقعے میں متعدد شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ مجرم پر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے کا بھی الزام تھا۔

مجرم فتح خان

مجرم فتح خان کو لوگوں کے گلے کاٹنے اور پولیو کی ٹیم پر حملہ کرنے کے مقدمات میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ قاری امین جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے، خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کے پرائمری سکول پر حملہ کرنے کے علاوہ شدت پسندوں کو مالی معاونت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے فوجی عدالتیں 14 مجرموں کو موت اور عمر قید کی سزائیں سنا چکی ہیں جن میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے مجرمان بھی شامل ہیں۔

فوجی عدالت کی طرف سے موت کی سزا پانے والے ایک مجرم حیدر علی نے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے اس درخواست کے فیصلے تک فوجی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔