لاپتہ افراد کے عالمی دن کے موقعے پر کوئٹہ میں احتجاجی ریلی

،تصویر کا ذریعہBaluchSarmachar
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے۔ جس میں بڑی تعداد میں لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین نے شرکت کی۔
اتوار کو ہونے والے اس مظاہرے کا انعقاد قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ نے کیا تھا۔مظاہرے کے شرکاء نے حقوق انسانی کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں انسانی کی حقوق کی پامالی کو روکنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں ۔
مظاہرے میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر اس مظاہرے کا مقصد نبیل بلوچ کی جبری گمشدگی اور بلوچستان میں مبینہ ریاستی آپریشن کی جانب توجہ دلانا ہے۔
نبیل بلوچ کے بارے میں اُن کی جماعت کا کہنا ہے کہ انھیں گذشتہ سال کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
بلوچستان میں لوگوں کی جبری گمشدگی کا آغاز سنہ 2000 کے بعد شروع ہوا ۔ مظاہرے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ رواں سال کے دوران صرف جولائی کے مہینے سے اب تک 245 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جبکہ 53افراد کی تشدد زدہ لاشیں برامد ہوئی ہیں۔
بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوے سامنے آتے ہیں۔بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ سو زائد نہیں ہے ۔اس کے برعکس لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔
مظاہرے میں شریک وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئر مین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ جب انھوں نے کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع کیا تھا تو اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو فراہم کی گئی فہرست کے مطابق 18ہزار لاپتہ افراد تھے اور موجودہ حکومت کے دور میں بھی ہزاروں افراد کو لاپتہ کیا گیا ہے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہ اُن کی تنظیم کے نمائندے ضلعی سطح تک موجود ہیں، جو لاپتہ افراد کی فہرستیں مرتب کرتے ہیں۔







